دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 397

دعوت الامیر — Page 259

(roa) دعوة الامير جو شبہ پیدا کیا جاتا ہے وہ درحقیقت پیدا ہی نہیں ہوتا اور صرف قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔اس اصل کو قائم کر کے آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ قرآن کریم میں اس زمانے کی ترقیات اور تمام حالات کا ذکر موجود ہے ، بلکہ اس زمانہ کی بعض جزئیات تک کا ذکر ہے، لیکن پہلے مسلمان چونکہ اس زمانہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے وہ ان اشارات کو نہیں سمجھ سکے اور ان واقعات کو قیامت پر محمول کرتے رہے۔مثلاً سورۃ التکویر میں اس زمانے کی بہت سی علامات مذکور ہیں جیسے (ا) إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ (۲) وَإِذَا التَّجُوْمُ انْكَدَرَتْ (۳) وَإِذَا الْجِبَالُ سَيَرَتْ (۴) وَإِذَا الْعِشَارُ عَطِلَتْ (۵) وَإِذَا الْوَحُوْشُ حُشِرَتْ (۲) وَإِذَا الْبِحَارُ سَجَرَتْ (۷) وَإِذَا التفوسُ زُوجَتْ (۸) وَإِذَا الْمَوْعَدَةُ سُئِلَتْ (۹) بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (۱۰) وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (۱۱) وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (۱۲) وَإِذَا الْجَحِيمَ سُعِرَتْ (۱۳) وَإِذَا الْجَنَّةَ أُزْلِفَتْ ٥ ( التكوير : ۱ تا ۱۴) یعنی (۱) جب سورج لپیٹا جائیگا (۳) وَإِذَا الْجِبَالُ سَيَرَتْ اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹائے جائیں گے۔یعنی ایسے سامان نکل آئیں گے کہ اُن کے ذریعے سے پہاڑوں کو کاٹا جائے گا اور ان کے اندرسوراخ کر دیئے جائیں گے (۴) وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔یعنی ایسا زمانہ آجائیگا کہ نئی سواریوں کی وجہ سے اونٹوں کی وہ قدرنہ رہے گی جواب ہے۔(۵) وَإِذَا الْوَخوش حُشِرَث اور جب دینی علوم سے لوگوں کو ناواقفیت ہوگی اور وہ مثل وحشیوں کے ہو جائیں گے اور اسی طرح وہ اقوام جو پہلے وحشی سمجھی جاتی تھیں جیسے یورپ کے باشندے کہ آج سے چھ سات سو سال قبل جس وقت ایشیائی لوگ نہایت مہذب اور ترقی یافتہ تھے یہ لوگ ننگے پھرتے تھے دنیا میں پھیلا دیئے جائیں