دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 397

دعوت الامیر — Page 252

(ror) دعوة الامير لمبی تقریر کی جو خطبہ الہامیہ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔اس تقریر کی عبارت بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی تھی کہ عرب اور عجم پڑھ کر حیران ہوتے ہیں اور ایسے غوامض و رموز اس میں بیان کئے کہ ان کی وجہ سے اس خطبہ کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔یہ علمی معجزہ آپ کا نہایت زبردست معجزات میں سے ہے کیونکہ ایک تو ان منجزات پر اسے فوقیت حاصل ہے جو زیادہ اثر صرف اس وقت کے لوگوں پر کرتے ہیں جو دیکھنے والے ہوں۔دوم اس معجزہ کا اقرار دشمنوں کی زبانوں سے بھی کرادیا گیا ہے اب جب تک دنیا قائم ہے یہ معجزہ آپ کا بھی قائم رہے گا اور قرآن کریم کی طرح آپ کے دشمنوں کے خلاف حجت رہے گا اور روشن نشان کی طرح چمکتا رہے گا۔بعض لوگ جب اس معجزہ کو دیکھ کر آپ کی صداقت کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں دیکھتے تو اس پر ایک اعتراض کیا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اس قسم کے معجزہ کا دعوی کرنا قرآن کریم کی ہتک ہے کیونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ اُس کی زبان بے مثل ہے۔اگر مرزا صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی زبان میں کتب لکھنے کی توفیق دے دی جو اپنی خوبیوں میں بے مثل ہے تو اس میں قرآن کریم کی ہتک ہو گئی اور اس کا دعویٰ باطل ہو گیا ان لوگوں کا یہ اعتراض محض تعصب کا نتیجہ ہے ورنہ اگر یہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ باوجود حضرت اقدس کی عربی کتب کے بے مثل ہونے کے قرآن کریم کا دعویٰ حق اور راست ہے اور اس کا معجزانہ رنگ موجود ہے بلکہ آگے سے بڑھ گیا ہے۔دُنیا میں ہر ایک فضیلت دو قسم کی ہوتی ہے، کامل فضیلت اور وہ فضیلت جو اضافی ہوتی ہے یعنی ایک فضیلت تو وہ جو بلا دوسری چیزوں کو مدنظر رکھنے کے ہوتی ہے اور ایک فضیلت وہ جو بعض اور چیزوں کو مد نظر رکھ کر ہوتی ہے اس کی مثال قرآن کریم سے ہی میں یہ