دعوت الامیر — Page 251
۲۵۱ دعوة الامير 1 1 + مضمون لکھ کر اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کیا اور مخالفوں کو اس کے مقابلہ میں رسالہ لکھنے کے لیے بلایا، مگر کوئی شخص مقابلہ پر نہ آسکا۔اس کے بعد متواتر آپ نے عربی کتب لکھیں جو بنیں سے بھی زیادہ ہیں اور بعض کتب کے ساتھ دس دس ہزار روپے کا انعام اُن لوگوں کے لئے مقرر کیا جو مقابلہ میں ویسی ہی فصیح کتب لکھیں ، مگر ان تحریرات کا جواب کوئی مخالف نہ لکھ سکا، بلکہ بعض کتب عربوں کے مقابلہ میں لکھی گئیں اور وہ بھی جواب نہ دے سکے۔اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ، چنانچہ سید رشید رضا صاحب مدیر المنار کو مخاطب کر کے بھی ایک کتاب (الهدى والتبصرة لمن یری۔تالیف ۱۳۲۰ھ میں مکمل ہوئی اور ۱۲ رجون ۱۹۰۲ء کو چھپ کر شائع ہوئی لکھی گئی اور اس کو مقابلہ کے لئے بلایا گیا ،مگر وہ مقابلہ پر نہ آیا، اسی طرح بعض اور عربوں کو مقابلہ کے لئے دعوت دی گئی ،مگر وہ جرات نہ کر سکے۔ہندوستان کے مولویوں نے اپنی شکست کا ان لفظوں میں اقرار کیا کہ یہ کتابیں مرزا صاحب خود نہیں لکھتے بلکہ انہوں نے عرب چھپا کر رکھے ہوئے ہیں وہ ان کتب کو لکھ کر دیتے ہیں۔اس اعتراض سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی کتب کی عربی زبان کے وہ بھی قائل تھے مگر ان کو یہ شک تھا کہ آپ خود یہ کتب نہیں لکھ سکتے اور لوگ آپ کو کتابیں لکھ کر دے دیتے ہیں اس پر آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ لوگ بھی عربوں اور شامیوں کی مدد سے میرے مقابلہ پر کتابیں لکھ دیں۔مگر باوجود بار بار غیرت دلانے کے کوئی سامنے نہ آیا اور وہ کتب اب تک بے جواب پڑی ہیں۔ان کُتب کے علاوہ ایک دفعہ آپ کو الہام ہوا کہ آپ فی البدیہہ ایک خطبہ عربی زبان میں دیں۔(الکم یکم مئی ۱۹۰۰ صفحہ ۵) حالانکہ آپ نے عربی زبان میں کبھی تقریر نہ کی تھی۔دوسرے دن عید الاضحی تھی۔اس الہام کے ماتحت آپ نے عید کے بعد عربی زبان میں ایک