دعوت الامیر — Page 253
(ror) دعوة الامير پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ أَنَّىٰ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ (البقره: ۴۸) میں نے تم کو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت دی اور پھر مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: ۱۱۱) تم سب سے بہتر اُمت ہو جو سب لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو تو ایک طرف بنی اسرائیل کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے۔بظاہر اس بات میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ ایک جگہ پر تو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت مراد ہے اور دوسری جگہ اوّلین و آخرین پر۔اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب کو جو بے مثلیت حاصل ہے وہ انسانوں کے کلاموں کو مد نظر رکھکر ہے اور قرآن کریم کو جو بے مثلیت عطا ہوئی ہے وہ تمام انسانی کلاموں پر بھی ہے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے دوسرے کلاموں پر بھی اور ان میں حضرت اقدس کے الہامی خطبات اور آپ کی کتب بھی شامل ہیں۔پس قرآن کریم کا بے مثل ہونا حقیقی ہے اور حضرت اقدس کی کتب کی زبان کا بے مثل ہونا اضافی۔پس آپ کا یہ معجزہ گولوگوں کے لئے حجت ہے مگر قرآن کریم کی شان کا گھٹانے والا نہیں۔میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ آپ کے معجزہ سے قرآن کریم کے معجزہ کی شان دو بالا ہو گئی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ بے مثلیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ایک بے مثلیت ایسی ہوتی ہے کہ بے مثل کلام کو دوسرے کلاموں پر فضیلت تو ہوتی ہے مگر بہت زیادہ فضیلت نہیں ہوتی۔پس گو اس کو افضل کہیں گے مگر دوسرے کلام بھی اس کے قریب قریب پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کہ مثلاً گھوڑ دوڑ میں جب گھوڑے دوڑتے ہیں تو ایک گھوڑا جو اوّل نکلے دوسرے گھوڑے سے ایک بالشت بھی آگے ہو سکتا ہے، ایک گز بھی ہوسکتا ہے