دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 397

دعوت الامیر — Page 250

(۲۵۰) دعوة الامير چکا ہوں کہ حضرت اقدس کسی مشہور مدرسے کے پڑھے ہوئے نہ تھے، معمولی لیاقت کے اُستاد آپ کی تعلیم کے لئے رکھے گئے تھے، جنہوں نے عام درسی کتب کا ایک حصہ آپ کو پڑھا دیا تھا۔آپ کبھی عرب وغیرہ ممالک کی طرف بھی نہیں گئے تھے اور نہ آپ ایسے شہروں میں رہے تھے جہاں عربی کا چر چاہو دیہاتی زندگی اور معمولی کُتب پڑھنے سے جس قدر علم انسان کو حاصل ہوسکتا ہے اسی قدر آپ کو حاصل تھا۔جب آپ نے دعوی کیا اور دنیا کی اصلاح کی طرف توجہ کی تو آپ کے دشمنوں کی نظر سب سے پہلے ان حالات پر پڑی اور انہوں نے سوچا کہ یہ سب سے بڑا حملہ ہے جو ہم آپ کی ذات پر کر سکتے ہیں اور یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ آپ ایک منشی آدمی ہیں اردو نوشت و خواند میں چونکہ مہارت ہوگئی اور لوگوں میں بعض مضامین اچھی نظر سے دیکھے گئے تو خیال کر لیا کہ اب میں بھی کچھ بن گیا اور دعویٰ کر دیا۔آپ عربی سے ناواقف ہیں اس علومِ دینیہ میں رائے دینے کے اہل نہیں، اس اعتراض کو ہر مجلس اور تحریر میں پیش کیا جاتا اور لوگوں کو بدظن کیا جاتا تھا۔ان لوگوں کا یہ اعتراض کہ آپ عربی زبان سے ناواقف تھے بالکل جھوٹا تھا کیونکہ آپ نے عام درسی کتب پڑھی تھیں مگر یہ سچ تھا کہ آپ کسی بڑے عالم سے نہیں پڑھے تھے اور نہ باقاعدہ کسی پرانے مدرسہ کے سند یافتہ تھے اس لئے ملک کے بڑے عالموں میں شمار نہ ہوتے تھے اور نہ مولوی کی حیثیت آپ کو حاصل تھی۔جب اس اعتراض کا بہت چرچا ہوا اور مخالف مولویوں نے وقت اور بے وقت اس کو پیش کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں چالیس ہزار مادہ عربی زبان کا سکھادیا اور یہ مجزہ عطا فرمایا کہ آپ عربی زبان میں کتب لکھیں اور وعدہ کیا کہ ایک ایسی فصاحت آپ کو عطا کی جاوے گی کہ لوگ مقابلہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ آپ نے عربی زبان میں ایک