دعوت الامیر — Page 249
۲۴۹ دعوة الامير سے پہلے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔پہلے انبیاء میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوْا شُهَدَاءَ كُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ (البقرہ : ۲۴) کہہ دے اگر تم کو اس کتاب کے سبب جو ہم نے اپنے اس بندے پر نازل کی ہے شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں ، تو پھر اس کی ایک سورۃ جیسی ہی کوئی عبارت لے آؤ۔اور اس کی تیاری کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا جس قدر تمہارے بزرگ ہیں سب کو اپنی مدد کے لئے جمع کرلو، مگر یاد رکھو کہ پھر بھی تم اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہو سکو گے۔اس آیت میں ہر قسم کی خوبیوں میں قرآن کریم کو بے مثل قرار دیا گیا ہے جن میں سے ایک خوبی ظاہری خوبی بھی ہے قرآن کریم کی فصاحت کی طرف اور جگہوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے چنانچہ فرماتا ہے۔کتاب أحْكِمَتْ أيْتَه ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍر (هود:۲) یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کے احکام نہایت مضبوط چٹان پر قائم کئے گئے ہیں اور پھر ان کو بے نظیر طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے اس خدا کی طرف سے جو بڑی حکمتوں کا مالک ہے اور واقعات سے باخبر ہے یعنی حکیم کی طرف سے پر حکمت کلام ہی آنا چاہئے اور خبیر جانتا ہے کہ اب علمی زمانہ شروع ہونے والا ہے اس لیے علمی معجزات کی ضرورت ہے۔پس اس نے قرآن کریم کی زبان کو مفضل بنایا ہے۔یعنی وہ اپنی وضاحت آپ کرتا ہے اور اپنی خوبی کا خود شاہد ہے۔چونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور آپ کے ظلن تھے اور آپ ہی کے نور سے حصہ لینے والے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی اس خوبی سے حصہ دیا اور آپ کو بھی کلام کی فصاحت عطا فرمائی۔میں پہلے لکھ