دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 397

دعوت الامیر — Page 244

۲۴۴ دعوة الامير طاعون سے نسبتاً محفوظ رہیں گے۔گو بعض حادثات بھی ہو جائیں گے مگر وہ اسی طرح ہونگے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کفار کے مقابلے میں بعض مسلمان بھی شہید ہو جاتے تھے مگر مقابلتا کفار بہت زیادہ مرتے تھے اور صحابہ بہت کم۔اسی طرح یہ بھی اعلان کیا کہ بستیوں میں سے قادیان نسبتا محفوظ رہے گا (کشتی نوح صفحه ۴ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲ تذکرہ صفحه ۴۲۹ ایڈیشن چہارم) اور یہاں اس قسم کی سخت طاعون پڑے گی جیسے کہ دوسری جگہوں پر پڑے گی اور گھروں میں سے آپ کا گھر کلی طور پر محفوظ رہیگا، اس میں طاعون کا کوئی حادثہ نہیں ہوگا۔ان اعلانوں کے بعد طاعون ہندوستان میں اس شدت کے ساتھ پھیلی کہ الامان ! ہر سال کئی کئی لاکھ آدمی طاعون سے مرجاتا تھا مگر باوجود اس کے کہ آپ نے اپنی جماعت کو طاعون کا ٹیکہ کرانے سے منع کر دیا تھا جو طاعون کا ایک ہی علاج سمجھا جاتا تھا۔دوسرے لوگ طاعون سے مرتے تھے مگر آپ کی جماعت کے لوگ نسبتاً طاعون سے محفوظ رہتے تھے اور متواتر اور کئی سال تک اسی طرح ہوتا ہوا دیکھ کر لوگوں نے سوچا کہ آخر کوئی بات ہے کہ اس طرح طاعون کے کیڑے احمدیوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو پکڑتے ہیں اور ہزار ہا لوگ اس کو دیکھ کر ایمان لائے۔بلکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے اکثر احمدی وہی ہیں جو اس نشان کو دیکھ کر ایمان لائے تھے۔یہ بات اُن کے لئے حیرت انگیز تھی کہ طاعون کے کیڑوں کو کون بتاتا ہے کہ فلاں شخص مرزا صاحب کا مانے والا ہے اور فلاں منکر۔بڑے بڑے دشمن جیسا کہ پہلی بیان کردہ بعض مثالوں سے ظاہر ہے طاعون سے ہی ہلاک ہوئے لیکن آپ کی جماعت بہت حد تک محفوظ رہی۔صرف کبھی کبھی اور کسی جگہ