دعوت الامیر — Page 245
(rro) دعوة الامير کوئی واقعہ ایسا ہو جاتا تھا کہ اُن میں سے بھی کوئی اس مرض میں مبتلا ہو جائے، متواتر کئی سال تک سارے ملک میں طاعون کی وباء کا پھوٹنا اور ماننے والوں کا نسبتا محفوظ رہنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی مذکورہ بالا رویا اور آپ کے الہام ” آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی ( بھی ) غلام ہے “ کے ماتحت ملائکہ اس مرض کے جرمز (Germs) کو آپ کی تائید لیکن آپ کے دشمنوں کی ہلاکت میں لگا رہے تھے اور اس طرح فرمانبرداری کا وہ حق پورا کر رہے تھے جو ہر مرسل کے متعلق اُن کے ذمہ لگایا گیا ہے۔قادیان میں بھی ایسا ہی ہوا کہ دوسرے شہروں کی نسبت یہاں بہت ہی کم طاعون ہوئی اور تین سال تک ہو کر ہٹ گئی۔حالانکہ دوسرے شہروں میں دس دس سال بلکہ بعض جگہ اس سے بھی زیادہ رہی۔آپ کے گھر کے متعلق تو ملائکہ کی فرمانبرداری کا عجیب نمونہ نظر آیا۔یعنی با وجود اس کے کہ تین سال تک متواتر آپ کے گھر کے بائیں طرف بھی اور دائیں طرف بھی طاعون پھوٹی ، آپ کے گھر کی دائیں طرف والے ملحق گھر میں بھی موتیں ہوئیں اور بائیں طرف کے گھر میں بھی موتیں ہوئیں ، لیکن آپ کا گھر جس میں سو سے زیادہ آدمی رہتے تھے اور نشیب کے حصہ میں واقع ہونے کے سبب سے صحت افزا جگہ پر بھی نہیں کہلا سکتا۔نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی موت نہیں ہوئی بلکہ کوئی چوہا بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، حالانکہ طاعون جب کسی گاؤں میں پڑے تو چو ہے فوراً مرنے شروع ہو جاتے ہیں یہ ایک عجیب نشان ہے اور صاحب دانش کے لیے موجب تسلی۔اگر ملائکہ آپ کی تائید نہیں کر رہے تھے تو پھر کیا چیز تھی جو امور طبعیہ کو جو حاکموں اور بادشاہوں کے قبضہ میں بھی نہیں ہوتے آپ کی تائید اور غلامی میں لگائے ہوئے تھی۔بڑے بڑے