دعوت الامیر — Page 204
(r۔) دعوة الامير حضرت علی کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے مگر لوگوں کے ڈر سے کچھ نہ کر سکے، بعض نے کہا کہ آپ نعوذ بالله من ذالک اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے اور آخر اللہ تعالیٰ نے زید سے طلاق دلوا کر ان کو آپ کے نکاح میں دیا، بعض نے کہا کہ آپ اپنی بیوی کی ایک لونڈی سے چھپ چھپ کر صحبت کیا کرتے تھے۔ایک دن بیوی نے دیکھ لیا تو آپ بہت نادم ہوئے اور اس بیوی سے اقرار کیا کہ پھر آپ ایسا نہیں کریں گے اور اس سے عہد لیا کہ وہ اور کسی کو نہ بتائے بعض کہتے ہیں کہ آپ کے دل میں کبھی کبھی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ تعلیم اسلام میں نرمی ہو جائے اور ایسی تعلیم نازل ہو جسے مشرکین عرب بھی تسلیم کر لیں۔ان کے احساسات اور جذبات کا بھی لحاظ رکھا جائے۔یہ وہ خیالات ہیں جو اس وقت کے مسلمانوں میں انبیاء کی نسبت رائج ہیں اور بعض تو اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کے ذاتی چال چلن سے گزر کر انہوں نے ان کے دینی چال چلن پر بھی حملہ کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ انبیاء در حقیقت محبانِ وطن تھے جنہوں نے یہ دیکھ کر کہ لوگ ہلا اس عقیدے کو تسلیم کرنے کے کہ کوئی جزا وسزا کا دن ہے اور جنت اور دوزخ حق ہیں تمدنی حدود کے اندر نہیں رہ سکتے تھے۔نیک نیتی کے ساتھ مناسب وقت احکام لوگوں کو دیدیئے ، الہام کا دعویٰ درست نہ تھا مگر بوجہ نیت نیک ہونے کے اور اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم پیش کرنے کے وہ قابل عزت ہیں اور باوجود اس قسم کے عقیدوں کے وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں اور عقائد کا رد کیا اور ان میں صحیح راستہ ہمیں بتایا وہاں ان خیالات کے متعلق بھی صحیح اسلامی تعلیم سے مسلمانوں اور دیگر لوگوں کو آگاہ کیا۔آپ نے بتا یا کہ انبیاء د نیا میں نیکی قائم کرنے کے لئے آتے ہیں اور