دعوت الامیر — Page 205
(r۔o) دعوة الامير اس لئے لوگوں کے لئے نمونہ ہوتے ہیں اگر وہ نمونہ نہ ہوں تو پھر ان کی بعثت کی کیا ضرورت ہے، کیوں آسمان سے صرف کتاب ہی نازل نہ کی جائے۔نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کو لوگ عمل میں آیا ہوا دیکھ لیں اور ان کی عملی تصویر سے لفظی حقیقت کو معلوم کریں اور ان کے نمونے سے جرات حاصل کر کے نیکی کی راہ میں ترقی کریں۔اور ان کی قوت قدسیہ سے طاقت حاصل کر کے اپنی کمزوریوں پر غالب آویں۔آپ نے دنیا کو تعلیم دی کہ لوگ انبیاء کی نسبت جن غلطیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کا سبب ان کی نا نہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بلا تحقیق اپنی بات کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے تمام نبی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔وہ سچائی کا زندہ نمونہ اور وفا کی جیتی جاگتی تصویر ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور صفائی اور خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کی سبوحیت اور قدوستیت اور اس کے بے عیب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔درحقیقت وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں بدکار بعض دفعہ اپنی شکل دیکھ کر اپنی بدصورتی اور زشت روئی کو ان کی طرف منسوب کر دیتا ہے، نہ آدم شریعت کا توڑنے والا تھا نہ نوع گنہ گار تھا نہ ابراہیم نے کبھی جھوٹ بولا ، نہ یعقوب نے دھوکا دیا، نہ یوسف نے بدی کا ارادہ کیا یا چوری کی یا فریب کیا ، نہ موسیٰ نے ناحق کوئی خون کیا، نہ داؤد نے کسی کی بیوی ناحق چھینی ، نہ سلیمان نے کسی مشرکہ کی محبت میں اپنے فرائض کو بھلا یا یا گھوڑوں کی محبت میں نماز سے غفلت کی ، نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا، آپ کی ذات تمام عیوب سے پاک تھی اور تمام گناہوں سے محفوظ و مصئون۔جو آپ کی عیب شماری کرتا ہے وہ خود اپنے گند کو ظاہر کرتا ہے یہ سب افسانے جو آپ کی نسبت مشہور ہیں بعض منافقوں کی روایات