دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 397

دعوت الامیر — Page 10

دعوة الامير خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنے بندوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عجز وانکسار پر توجہ کرتا ہے اور اگر وہ اسے بھول جائیں تو وہ خود اپنا وجود انہیں یاد دلاتا ہے اور اپنے خاص پیغام رسانوں کے ذریعے ان کو بتا تا ہے کہ إِنِّي قَرِيْبَ أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيَوْمِنُوْا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة -۱۸۷) میں قریب ہوں ہر ایک پکارنے والے کی آواز کو جب وہ مجھے پکارتا ہے سنتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ ہدایت پائیں۔۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے۔صرف یہی قانون قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پستہ دیتا ہے۔یہ وہی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانون قدرت کہتے ہیں حالانکہ وہ طبعی قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے۔بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف و کمزور