دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 397

دعوت الامیر — Page 11

دعوة الامير موسیٰ فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا۔یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پا جاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا، پھر اگر کوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہوسکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تباہی کے درپے ہو تا مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہر حملہ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قدوسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جان شار کی معیت میں آپ کو نکلنا پڑا تھا۔کیا قانون طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ہر گز نہیں۔وہ قانون تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہرا دنی طاقت اعلی طاقت کے مقابل پر توڑ دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں سے ہلاک ہوتا ہے۔۹۔ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان پھر اٹھایا جائے گا اور اس کے اعمال کا اس سے حساب لیا جائے گا۔جو اچھے اعمال کرنے والا ہوگا اس سے نیک سلوک کیا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ہوگا اسے سخت سزا دی جائے گی اور کوئی تدبیر نہیں جو انسان کو اس بعثت سے بچا سکے خواہ اس کے جسم کو ہوا کے پرندے یا جنگل کے درندے کھا جا ئیں۔خواہ زمین کے کیڑے اس کے ذرے ذرے کو جدا کر دیں اور پھر ان کو دوسری شکلوں میں تبدیل کر دیں اور خواہ اس کی ہڈیاں تک جلا دی جائیں ، وہ پھر بھی اٹھایا جائے گا اور اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے حساب دے گا کیونکہ اس کی قدرت کا ملہ اس امر کی محتاج نہیں کہ اس کا پہلا جسم ہی موجود ہوتب ہی وہ اس کو پیدا کر سکتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس کے باریک سے باریک ذرہ یا لطیف