دعوت الامیر — Page 9
دعوة الامير نے تمام زمین کو مسجد بناد یا حتی کہ چپہ چپہ زمین پر اُن کی اُمت نے خدائے وحدہ لاشریک کے لئے سجدہ کیا اور زمین عدل وانصاف سے بھر گئی بعد اس کے کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر پہلے انبیاء بھی اس نبی کامل کے وقت میں ہوتے تو انہیں اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مَنْ كِتَابٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لَتَؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (آل عمران آیت: ۸۲) اور جیسا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَتَيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِيْ الیواقیت والجواهر جلد ۲ صفحہ ۲۲ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ھ میں ”لما" کی جگہ "ما" کا لفظ ہے ) اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ے۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو ٹالتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے جس کی زندگی کو انسان ہر زمانے میں اور ہر وقت محسوس کرتا ہے۔اس کی مثال اس سیڑھی کی نہیں جسے کنواں بنانے والا بنا تا ہے اور جب وہ کنواں مکمل ہو جاتا ہے تو سیڑھی کو توڑ ڈالتا ہے کہ اب وہ کسی مصرف کی نہیں رہی اور کام میں حارج ہوگی، بلکہ اُس کی مثال اس نور کی ہے کہ جس کے بغیر سب کچھ اندھیرا ہے اور اس روح کی ہے جس کے بغیر چاروں طرف موت ہی موت ہے اس کے وجود کو بندوں سے جدا کر دو تو وہ۔ایک جسم بے جان رہ جاتے ہیں یہ نہیں ہے کہ اس نے کبھی دنیا کو پیدا کیا اوراب