دعوت الامیر — Page 159
(109) دعوة الامير۔رکھتا تھا، اس وجہ سے اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے آپکو خاص ہتھیار عطا فرمائے ، مگر باقی تمام مذاہب کے لئے ایک ہی ایسا ہتھیار دیا جس کی زد سے کوئی مذہب بیچ نہیں سکتا اور ہر مذہب کے پیرو اسلام کا شکار ہو گئے ہیں وہ ہتھیار یہ ہے کہ ہر مذہب کے پہلے بزرگوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آخری ایام دنیا میں ایک مصلح کی خبر دے رکھی تھی اور اس خبر کی وجہ سے سب مذاہب ایک نبی یا اوتار یا جو نام بھی اس کا انہوں نے رکھا تھا اس کے منتظر تھے اور اپنی تمام ترقیات کو اس سے وابستہ سمجھتے تھے ، ہندوؤں میں بھی ایسی پیشگوئیاں تھیں اور زرتشتیوں میں بھی تھیں اور دیگر چھوٹے بڑے ادیان کے پیروؤں میں بھی تھیں اور ان سب پیشگوئیوں میں آنے والے موعود کا زمانہ بھی بتا یا گیا تھا ، یعنی چند علامات اس کے زمانے کی بطور شناخت بنادی گئی تھیں، اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود پر یہ کھول دیا کہ یہ جس قدر پیشگوئیاں ہیں اور ان میں جو علامات بتائی گئی ہیں سب ملتی جلتی ہیں اور اگر بعض پیشگوئیوں میں بعض دوسریوں سے زائد علامات بھی بتائی گئی ہیں تو وہ اسی زمانے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جس طرف کہ باقی علامات۔پس یہ تمام نبی یا اوتار ایک ہی زمانے میں آنے والے ہیں۔اب ادھر تو ان پیشگوئیوں کا ہزاروں سالوں کے بعد اس زمانے میں آکر پورا ہو جانا بتا تا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں، انسان یا شیطان کی طرف سے نہ تھیں کیونکہ آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن : ۲۷-۲۸) اس کا فیصلہ کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ ایک ہی زمانے میں ہر قوم اور ملت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول یا نبی یا او تارکھڑے کئے جاویں جن کا یہ کام ہو کہ وہ اس قوم کو دوسری اقوام پر غالب کریں گویا خدا کے نبی ایک دوسرے کا مقابلہ کریں