دعوت الامیر — Page 160
(11۔) دعوة الامير اور پھر یہ بھی ناممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں ہر قوم دوسری اقوام پر غالب آجائے۔پس ایک طرف ان پیشگوئیوں کا سچا ہو کر ثابت ہونا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور دوسری طرف ان کا مختلف وجودوں پر پورا ہو کر باعث فساد بلکہ خلاف عقل ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ در حقیقت ان تمام پیشگوئیوں میں ایک ہی وجود کی خبر دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ پہلے اقوام عالم میں ایک وجود کا انتظار کرائے اور جب وہ آجائے تو اس کے منہ سے اسلام کی صداقت کی شہادت دلا کر ان ادیان کے پیروؤں کو اسلام میں داخل کرے اور اسلام کو ان ادیان پر غالب کرے۔پس مہدی کوئی نہ تھا مگر مسیح اور کرشن کوئی نہ تھا مگر مسیح، زرتشتیوں کا مسیو در بیمی کوئی نہ تھا مگر وہی جو کرشن ، مہدی اور مسیح تھا اور اسی طرح دوسری اقوام کے موعود در حقیقت ایک ہی شخص تھے اور غرض مختلف ناموں کے ذریعے سے پیشگوئی کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اپنے نبیوں سے اس کی خبر سن کر اور اپنی زبان میں اس کا نام دیکھ کر وہ اسے اپنا سمجھیں غیر خیال نہ کریں، حتی کہ وہ زمانہ آجائے کہ جب وہ موعود ظاہر ہو اور اس کے وقت میں سب پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر ان کی صداقت کا اقرار کرنا پڑے اور اس کی شہادت پر وہ اسلام کو قبول کریں۔اس پر حکمت عمل کی مثال بالکل یہ ہے کہ کوئی شخص بہت سی اقوام کو لڑتا دیکھ کر ان سے خواہش کرے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے سے فیصلہ کر لیں اور جب وہ اپنے اپنے ثالث مقرر کر چکیں تو معلوم ہو کہ وہ ایک ہی شخص کے مختلف نام ہیں اور اس کے فیصلے پر سب کی صلح ہو جائے۔غرض یہ ثابت کر کے کہ مختلف مذاہب میں جو آخری زمانے کے موعود کے متعلق پیشگوئیاں ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں اور پھر یہ ثابت کر کے کہ ایک ہی وقت