دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 397

دعوت الامیر — Page 158

(IDA) دعوة الامير ہے ) شام کے ملک کی مانند کے ہیں۔ک کے معنے مثل کے ہیں اور شیر شام کا نام ہے۔اسی طرح کا بل اور بہت سے دوسرے افغانی شہروں کے نام شام کے شہروں کے ناموں سے ملتے ہیں اور افغانستان اور کشمیر کے باشندوں کے چہروں کی ہڈیوں کی بناوٹ بھی بنی اسرائیل کے چہروں کی بناوٹ سے ملتی ہے مگر سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے تاریخ سے مسیح کی قبر کا بھی پتہ نکال لیا جو کہ کشمیر کے شہر سرینگر کے محلہ خانیار میں واقع ہے۔کشمیر کی پرانی تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نبی کی قبر ہے جسے شہزادہ نبی کہتے تھے اور جو مغرب کی طرف سے انیس سو سال ہوئے آیا تھا اور کشمیر کے پرانے لوگ اسے عیسی صاحب کی قبر کہتے ہیں۔غرض متفرق واسطوں سے پہنچنے والی روایات کے ذریعے سے آپ نے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح فوت ہو کر کشمیر میں دفن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ان کے حق میں پورا ہو چکا ہے کہ وَأَوَيْنَا هُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينِ (المومنون آیت : ۵۱) اور ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جو اونچی جگہ ہے اور پھر ہے بھی میدان میں اور اس میں چشمے بھی بہت سے پھوٹتے ہیں اور یہ تعریف کشمیر پر بالکل صادق آتی ہے۔غرض مسیح کی زندگی کے حالات ان کی موت تک ثابت کر کے اور ان کی قبر تک کا نشان نکال کر حضرت مسیح موعود نے مسیح کی خدائی پر ایساز بر دست حملہ کیا ہے کہ مسیح کی خدائی کا عقیدہ ہمیشہ کے لئے ایک مردہ عقیدہ بن گیا ہے اور اب کبھی بھی مسیحیت دوبارہ سرنہیں اٹھا سکتی۔سب مذاہب کے لئے ایک ہی ہتھیار چونکہ مسیحی مذہب کیا بلحاظ سیاسی فوقیت اور کیا بلحاظ وسعت اور کیا بلحاظ اپنی تبلیغی کوششوں کے اور کیا بلحاظ علمی ترقی کے اس زمانے میں دوسرے تمام ادیان پر ایک فوقیت