دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 397

دعوت الامیر — Page 148

(IPA) دعوة الامير ہوا پیش کرتا ہوں جو بعد کو آپ کا سخت مخالف ہو گیا اور آپ کے دعوے پر اس نے سب سے پہلے آپ کی تکفیر کا فتویٰ دیا۔یہ صاحب کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ اہل حدیث کے لیڈر اور سردار مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔جنہوں نے آپ کی ایک کتاب براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں آپ کی نسبت یوں گواہی دی ہے۔مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب ، اس زمانے سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری ہے اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات سے بہت واقف ہیں، مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔“ اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبرے صفحہ ۱۷۶) یہ بیان تو ان کا اس امر کے متعلق ہے کہ ان کی شہادت یونہی نہیں بلکہ لمبے تجر بہ اور صحبت کا نتیجہ ہے اور ان کی شہادت یہ ہے:۔”ہماری رائے میں یہ کتاب (حضرت صاحب کی کتاب ” براہین احمدیہ“ مؤلف ) اس زمانے میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ اللَّهَ يُحدِث بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم دیکھی جاتی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم