دعوت الامیر — Page 149
۱۳۹ دعوة الامير ایک ایسی کتاب بتادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ کیا گیا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی ولسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھالیا ہو اور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کیساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ و مشاہدہ کرے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا غیر اقوام کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔“ اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۷ ۱۶۹-۱۷۰) یہ رائے آپ کے چال چلن اور خدمت اسلام کی نسبت اس شخص کی ہے جس نے آپ کے دعوائے مسیحیت پر ان اہل مکہ کی طرح جن کی زبانیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امین وصادق کہتے ہوئے خشک ہوتی تھیں نہ صرف آپ کے دعوے کا انکار کیا بلکہ اپنی باقی عمر آپ کی تکفیر اور تکذیب اور مخالفت میں بسر کر دی۔مگر دعوے کے بعد کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص باوجود بتیس دانتوں میں آئی ہوئی زبان کی طرح مخالفوں اور دشمنوں کے نرغہ میں رہنے کے ہر دوست و دشمن سے اپنی صداقت کا اقرار کر والے اور پھر وہ ایک ہی دن میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں کہ ایسے شخص کو جو اپنی بے عیب زندگی کا دشمن سے بھی اقرار کر والیتا ہے یہ بدلہ دیکر ایک ہی دن میں اَشَر الناس بنادے اور یا تو بڑے سے بڑا لالچ اور مہیب سے مہیب خطرہ اسے صداقت سے پھیر نہیں سکتا تھا اور یا پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایسا مسخ کر دے کہ وہ اچانک اس پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے۔