دعوت الامیر — Page 147
۱۴۷ دعوة الامير آپ کے والد صاحب نے حکماً کچھ عرصہ تک کے لئے آپ کو ان مقدمات کی پیروی کے لئے مقرر کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے بظاہر آپ ہی لوگوں کے مد مقابل بنتے تھے۔سکھوں کو خاص طور پر آپ کے خاندان سے عداوت تھی کیونکہ کچھ عرصہ کے لئے آپ کے خاندان کو اس علاقے سے نکال کر وہی یہاں حاکم بن گئے تھے۔پس اس خاندان کی ترقی ان پر شاق گزرتی تھی اور ایک قسم کی رقابت ان کے دلوں میں تھی۔آپ کو ابتدائی عمر سے اسلام کی خدمت کا شوق تھا اور آپ مسیحی ، ہندو اور سکھ مذاہب کے خلاف تقریرا اور تحریراً مباحثات جاری رکھتے تھے جس کی وجہ سے ان مذاہب کے پیروؤں کو طبعاً آپ سے پر خاش تھی۔مگر باوجود اس کے کہ سب اہل مذاہب سے آپ کے تعلقات تھے اور سب سے مذہبی دلچسپی کی وجہ سے مخالفت تھی ہر شخص خواہ ہندو ہو خواہ سکھ خواہ مسیحی خواہ مسلمان ، اس بات کا مقتر ہے کہ آپ کی زندگی دعوے سے پہلے نہایت بے عیب اور پاک تھی اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق فاضلہ آپ کو حاصل تھے سچائی کو آپ کبھی نہ چھوڑتے تھے اور لوگوں کا اعتبار اور یقین آپ پر اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ آپ کے خاندان کے دشمن بعض دفعہ اُن حقوق کے تصفیے کے لئے جن کے متعلق ان کو آپ کے خاندان سے اختلافات ہوتا اس امر پر زور دیتے تھے کہ آپ کو منصف مقرر کر دیا جائے۔جو فیصلہ آپ دیں وہ ان کو منظور ہوگا، غرض آپ کے حالات سے واقف لوگ ہرامر میں آپ پر اعتبار کرتے تھے اور آپ کو راستی اور صداقت کا ایک مجسمہ یقین کرتے تھے۔مسیحی ، ہندو، سکھ کو مذہبی اختلاف آپ سے رکھتے تھے مگر اس امر کا اقرار کرتے تھے کہ آپ کی زندگی مقدس زندگی ہے۔لوگوں کی جو رائے آپ کی نسبت تھی اس کا ایک نمونہ میں ایک شخص کے قلم سے نکلا