دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 397

دعوت الامیر — Page 146

۱۴۶ دعوة الامير نے جواب میں کہا۔كَلاةَ اللهِ مَا يُخْزِیكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِ (بخاری باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله صلى الله علیه وسلم) ہرگز نہیں ، ہر گز نہیں۔خدا کی قسم اللہ تجھ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا تو تو رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا ہے اور بیکس کا بوجھ اٹھاتا ہے اور وہ اخلاق فاضلہ جو اس زمانے میں بالکل مفقود تھے تجھ میں پائے جاتے ہیں اور تو مہمان کی مہمان داری کرتا ہے اور لوگوں کی جائز مصائب میں ان کی مدد کرتا ہے۔غرض نبی کی صداقت کی پہلی اندرونی دلیل اس کا نفس ہوتا ہے جو بزبان حال اسکی سچائی پر گواہ ہوتا ہے اور اس کی گواہی ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اور معجزہ یا آیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور یہ دلیل حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی سچائی ثابت کرنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔آپ قادیان کے رہنے والے تھے۔جس میں ہندوستان کے تینوں مذاہب کے پیرو یعنی ہندو سکھ اور مسلمان بستے ہیں، گویا آپ کی زندگی کے نگران تین قوموں کے آدمی تھے۔آپ کے خاندانی تعلقات ان لوگوں سے ایسے نہ تھے کہ انکو آپ سے کچھ ہمدردی ہو کیونکہ آپ کی ابتدائی عمر کے ایام میں انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کی آمد کیساتھ ہی قادیان کے باشندوں نے جو آپ کے آباؤ اجداد کی رعایا میں سے تھے اس انقلاب حکومت سے فائدہ اٹھا کر اپنی آزادی کے لئے جد و جہد شروع کر دی اور آپ کے والد کے ساتھ تمام قصبے کے باشندوں کے تنازعات اور مقدمات شروع ہو گئے تھے۔یہ بھی نہیں کہ آپ ان مقدمات سے علیحدہ تھے باوجود آپ کی خلوت پسندی کے