دعوت الامیر — Page 135
(ro) دعوة الامير فرض ہو گیا تو وہ اس کلام نبوی پر ایمان لاوے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ نشان کہ اس کے زمانے میں چاند اور سورج کو گرہن لگنے کی پہلی اور درمیانی تاریخوں میں گرہن لگے گا ، سوائے مہدی کے اور کسی کے لئے ظاہر نہیں کیا گیا اور جس کی تائید قرآن کریم اور پہلے انبیاء کی کتب سے بھی ہوتی ہے اور اس شخص کو قبول کرے جس کے دعوائے مہدویت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ نشان ظاہر کیا ، یا پھر خدا اور اس کے رسول کو چھوڑ دے کہ انہوں نے ایک ایسی علامت مہدی کی بتائی جو در حقیقت کوئی علامت ہی نہیں تھی اور جس سے کسی مدعی کے دعوئی کی صداقت ثابت کرنا خلاف عقل ہے۔بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ پیشگوئی میں چاند کو پہلی تاریخ اور سورج کو درمیانی تاریخ میں گرہن لگنے کی خبر دی گئی ہے ،لیکن جس گرہن کا تم ذکر کرتے ہو وہ تیرھویں اور اٹھائیسویں تاریخ کو ہوا ہے، لیکن یہ اعتراض ایک ذرا سے تدبر سے نہایت غلط اور الفاظ حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے، یہ لوگ اس امر کو نہیں دیکھتے کہ چاند اور سورج کو خاص تاریخوں میں گرہن لگا کرتا ہے اور اس قاعدے میں فرق نہیں پڑسکتا۔جب تک کا ئنات عالم کو تہ و بالا نہ کر دیا جائے۔پس اگر وہ معنے درست ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو یہ نشان قیامت کی علامت تو ہوسکتا ہے، مگر قرب قیامت اور زمانہ مہدی کی علامت نہیں ہوسکتا۔علاوہ ازیں یہ لوگ پہلی اور درمیانی کے الفاظ کو تو دیکھتے ہیں ، لیکن قمر کے لفظ کو نہیں دیکھتے پہلی تاریخ کا چاند عربی زبان میں ہلال کہلاتا ہے، قمر تو چوتھی تاریخ سے اس کا نام ہوتا ہے لغت میں لکھا ہے۔وَهُوَ قَمَرْ بَعْدَ ثَلاثِ لَيَالٍ إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ وَأَمَّا قَبْلَ ذَالِكَ فَهُوَ هِلَال (اقرب الموارد جلد ۲ صفحه ۰۳۷ از یر لفظ قمر مطبوعه ایران ۱۴۰۳ھ ) یعنی چاند