دعوت الامیر — Page 136
۱۳۶ دعوة الامير تین راتوں کے بعد قمر بنتا ہے اور مہینے کے آخر تک قمر رہتا ہے مگر پہلی تین راتوں میں وہ ہلال ہوتا ہے۔پس باوجود حدیث میں قمر کا لفظ استعمال ہونے کے اور باوجود اس قانون قدرت کے کہ چاند کو تیرہ، چودہ ، پندرہ کو گرہن لگتا ہے نہ کہ پہلی تاریخ کو۔پہلی تاریخ سے مہینے کی پہلی تاریخ مراد اور چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ مراد نہ لینا بالکل خلاف عقل و خلاف انصاف ہے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول کا کلام جھوٹا ہو اور آسمان سے آنے والے پر لوگ ایمان نہ لے آئیں۔یہ وہ علامات ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے متعلق بیان فرمائی ہیں اور گوان میں سے بعض ایک ایک بھی مسیح موعود کے زمانے کی ہے اور اس کے لئے نشان ہے، لیکن درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان علامات کے بیان کرنے سے مسیح موعود کے زمانے کے حالات کو مجموعی طور پر لوگوں کے سامنے اس صورت میں لا نا تھا کہ کسی کوشک وشبہ کی گنجائش نہ رہے اس میں کوئی شک نہیں کہ طاعون پہلے زمانوں میں بھی پڑتی رہی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ زلزلے پہلے بھی آتے رہے ہیں، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جوئے کی زیادت پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اخلاق لوگوں کے پہلے بھی بگڑتے رہے ہیں، مسیحیوں کو بھی ایک زمانے میں ایک معتد بہ حصہ عالم پر اقتدار حاصل رہ چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب حالات جو مسیح موعود کے زمانے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں کبھی کسی وقت دنیا میں جمع بھی ہوئے ہیں یا ان کا کسی اور زمانے میں جمع ہونا ممکن بھی ہے؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ نہیں ہرگز نہیں ، اگر ایک شخص کو جسے اس زمانے کی حالت معلوم نہ ہو پہلے اخبار رسول کریم