دعوت الامیر — Page 134
(۱۳۴ دعوة الامير جس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ سورج اور چاند کو اس کے زمانے میں گرہن لگے گا۔گو میں ان پیشگوئیوں کو بیان کر رہا ہوں جن کا احادیث میں ذکر آتا ہے مگر میں اس جگہ اس بات کا ذکر کرنا غیر محل نہیں سمجھتا کہ قرآن کریم میں قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت سورج اور چاند گرہن کی بیان کی گئی ہے۔سورۃ القیامۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَسْتَلُ أَيَّانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُه وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُه (القيامة آيت: ۷ تا ۱۰ ) ( منکر ) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہے؟ ہم اس کی علامتیں بتاتے ہیں وہ تب ہوں گی جب آنکھیں متحیر رہ جائیں گی ، یعنی ایسے حادثات ہوں گے کہ انسان کو حیرت میں ڈال دیں گے اور چاند کو گرہن لگے گا اور پھر سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی اسی ماہ میں چاند گرہن کے بعد سورج گرہن ہوگا چونکہ مسیح کی آمد بھی قیامت کے قریب زمانے میں بتائی گئی ہے اس لئے قرآن کریم سے بھی مذکورہ بالا حدیث کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔غرض جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے یہ پیشگوئی خاص اہمیت رکھتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کمل اسلاھ مطابق ۱۸۹۴ء میں یہ پیشگوئی بعینہ انہیں الفاظ میں پوری ہوگئی ہے جن الفاظ میں کہ احادیث میں اسے بیان کیا گیا تھا ، یعنی اس سن کے رمضان میں چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی یعنی تیرھویں تاریخ کو چاند گرہن لگا اور سورج گرہن کی تاریخوں ۲۸ ۱۳ میں سے درمیانی یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو سورج کو گرہن لگا اور ایک ایسے آدمی کے زمانے میں لگا جو مہدویت کا دعویٰ کر رہا تھا۔پس ہر ایک مسلمان کہلانے والے کے لئے دور استوں میں سے ایک کا اختیار کرنا