دعوت الامیر — Page 125
(۱۲۵) دعوة الامير سے دوسرے سرے تک پہنچ گئے اور سارے جہان کو اپنے دجل کے جال میں پھانس لیا ہے اور ریل اور جہاز کے کبھی آگے اور کبھی پیچھے دھوئیں کا بادل ہوتا ہے جو کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور ان دونوں سواریوں کی خوراک بھی پتھر ہے ( یعنی پتھر کا کوئلہ ) جو خوراک کہ دقبال کے گدھے کی حدیثوں میں بیان ہوئی ہے۔ان سواریوں نے تعلقات اقوام کی نوعیت ہی بالکل بدل دی ہے۔مالی حالت :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کی مالی حالت کا بھی نقشہ کھینچ کر بتایا ہے۔حذیفہ ابن الیمان سے ابونعیم نے حلیہ میں روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ اس وقت سونا زیادہ ہو جائے گا اور چاندی لوگوں سے مطلوب ہو جاۓ گی (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۸ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یہ حالت بھی اب پیدا ہے سونے کی وہ کثرت ہوگئی ہے کہ اس کا دسواں حصہ بھی پہلے نہ تھی۔سینکڑوں سونے اور چاندی کی نئی دکا نہیں نکل آئی ہیں اور پھر سونے اور چاندی کے نکالنے کے جدید ذریعے معلوم کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں سونے کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر صرف انگلستان کا ہی سونالیا جائے تو شاید پچھلے زمانے کے ساری دنیا کے سونے سے زیادہ نکلے، چنانچہ ایک نمایاں اثر اس کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تجارت نہایت ترقی کر گئی ہے اور سب تجارت سونے اور چاندی کے ساتھ ہوتی ہے۔پہلے زمانوں میں پیسوں اور کوڑیوں پر خرید وفروخت کا مدار تھا۔اب کوڑیوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں اور بعض ملکوں میں پیسوں کو بھی نہیں جانتا۔جیسے انگلستان میں کہ وہاں