دعوت الامیر — Page 126
۱۲۶ دعوة الامير سب سے چھوٹا مروج سکہ آنے کا سکہ ہے اور امریکہ میں سب سے چھوٹا مروج سکہ دو پیسہ کا ہے اور اکثر کام ان ممالک میں تو سونے کے سکوں سے ہی ہوتا ہے۔اس وقت کی مالی حالت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے کہ سود بہت بڑھ جائے گا۔چنانچہ حضرت علی سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت سود خوری زیادہ ہو جائے گی۔سور (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۹ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) (کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۷۳ روایت ۳۹۷۰۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) اور یہ بات بھی پیدا ہو چکی ہے۔اس وقت جس قدر سود کو ترقی حاصل ہے اس کا لاکھواں بلکہ کروڑواں حصہ بھی پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی، شاذ و نادر کومستنقٹی کر کے سب تجارتیں سود پر چلتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اگر سود نہ لیں تو کام چل ہی نہیں سکتا۔بنکوں کی وہ کثرت ہے کہ ہزاروں کے شمار سے بھی بڑھ گئے ہیں۔حکومتیں سود لیتی اور دیتی ہیں، تاجر ود لیتے اور دیتے ہیں۔صناع سود لیتے اور دیتے ہیں۔امراء سود لیتے اور دیتے ہیں غرض ہر قوم کے لوگ سود پر کام چلارہے ہیں اور یوں کہنا چاہئے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہر شخص نے عہد کر لیا ہے کہ وہ دوسرے کے روپیہ سے اپنا کام چلائے گا اور اپنا روپیہ دوسرے کو کام چلانے کے لئے دے گا اگر ایک کروڑ کی تجارت ہو رہی ہو تو اس میں شاید چند ہزار روپیہ سود کی زد سے باہر رہے گا۔باقی سب کا سب سود کے چکر میں آیا ہوا ہو گا، مسلمان جنہیں کہا جاتا تھا کہ اگر سود لینے سے تم باز نہیں آتے تو فَأذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ (البقرة آيت: ۲۸۰) اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ان کا بھی یہ حال ہے کہ اکثر تو سود کا نام منافع رکھ کر اسے استعمال کر رہے اور بعض اپنی کمزوری کا اقرار کر کے اس کا لین دین کر