دعوت الامیر — Page 124
(ir) دعوة الامير تعلقات مابین:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کے متعلق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اس وقت اقوام کے تعلقات کس طرح کے ہوں گے۔آپ نے خبر دی ہے کہ اس وقت ایسے سامان نکل آویں گے کہ لوگ پرانی سواریوں کو چھوڑ دیں گے اور نئی سواریوں پر چڑھیں گے خشکی اور پانی پر نئی قسم کی سواریاں چلیں گی ، چنانچہ آپ فرماتے ہیں لیتُرَ كَنَّ الْقِلاصُ فَلاَ يُسْعَى عَلَيْهَا (مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسیٰ ابن مریم حاكماً بشريعة نبينا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس زمانے میں سواری کی اونٹنیاں ترک کر دی جائیں گی اور لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کریں گے، چنانچہ اس وقت یہی ہو رہا ہے، اکثر ممالک میں ریل کی سواری کی وجہ سے قدیم سواریاں بریکار ہوتی جاتی ہیں۔پہلے خالی ریل تھی تو دوسری سڑکوں پر سفر کرنے کے لئے پھر بھی لوگ اونٹ وغیرہ کے محتاج ہوتے تھے لیکن جب سے موٹر نکل آئی ہے اس وقت سے تو اس قدر ضرورت بھی گھوڑوں وغیرہ کی نہیں رہی اور جوں جوں ان سواریوں کی ترقی ہوگی پرانے سواری کے جانور متروک ہوتے چلے جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کے متعلق یہ خبر بھی دی تھی کہ اس وقت ریلوں کے علاوہ دُخانی جہاز بھی نکل آئیں گے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔دجال کا گدھا پانی پر بھی چلے گا اور جب وہ چلے گا تو اس کے آگے اور پیچھے بادل ہوگا ( کنز العمال جلد ۱۴ صفحہ ۶۱۳ روایت ۳۹۷۰۹ مطبوعہ حاب ۱۹۷۵ء) اور اس سے مراد آپ کی ریل اور دخانی جہاز ہی ہیں۔کیونکہ یہی گدھا ہے جو خشکی اور پانی پر چلتا ہے اور اس سے کلیسیاء نے جسقد ر کام لیا ہے اور کسی قوم نے نہیں لیا۔اس کے ذریعہ پادری الجھیلیں بغل میں دبا کر دنیا کے ایک سرے