دعوت الامیر — Page 121
(IMI) دعوة الامير کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف الفاظ میں خبر دی ہے، بعض جگہ اسے دابۃ الارض کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔(ترمذی ابواب الفتن باب فی الخسف) کیونکہ یہ مرض ایک کیڑے سے پیدا ہوتا ہے جو زمین سے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کا یہی نام ہے۔یہ طاعون کوئی معمولی وباء نہیں ہے۔بلکہ اس وباء نے دنیا کے اکثر حصوں میں اپنی ہلاکت کا جال بچھا دیا ہے اور ہندوستان میں تو چھتیس سال سے اب تک ڈیرہ لگائے ہوئے ہے۔اس دابہ کے خروج کی پیشگوئی میں صرف طاعون ہی کی خبر نہیں ہے، بلکہ اس میں یہ بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کئی ایسی بیماریاں پیدا ہو جائیں گی جن کا اثر خورد بینی کیڑوں کے ذریعے سے پھیلے گا اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں کئی ایسی بیماریاں پیدا ہوگئی ہیں جو خوردبینی اجسام کے ذریعے پھیلتی ہیں اور جو اس سے پہلے یا توتھی ہی نہیں یا اس شکل میں کبھی نمودار نہ ہوئی تھیں۔اس قرآنی اور نبی کریم کی بتائی ہوئی پیشگوئی میں در حقیقت خوردبین کی ایجاد اور اس کے اثر کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر دنیا کو کیونکر معلوم ہو سکتا تھا کہ ان بیماریوں کا باعث ایک دابہ یعنی کیڑا ہے۔پہلے تو لوگ بلغم ، صفرا، سودا اور دم پر ہی سب بیماریوں کے بواعث کی زنجیر کو ختم کر دیتے تھے۔مسیح موعود کے زمانے میں صحت عامہ کی حالت کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی نشانات بیان فرمائے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت مرگِ مفاجات ظاہر ہوگی (حجج الكرامة في أثار القيامۃ صفحہ ۲۹۶ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ )