دعوت الی اللہ

by Other Authors

Page 11 of 27

دعوت الی اللہ — Page 11

۱۳ جوائس کی راہ سے بھٹک گئے ہوں۔سب سے بہتر جانتا ہے۔اور ان کو بھی جو ہدایت پاتے ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب ہم کسی کے سامنے کوئی نئی بات پیش کر کے اُسے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں تو عمو گا تین طریقے برتتے ہیں۔یا تو اس بات کے ثبوت اور تائید میں کچھ دلنشین دلیلیں پیش کرتے ہیں یا اس کو مخلصانہ نصیحت کرتے ہیں اور مؤثر اندانہ سے اس کو نیک ویک اور نشیب و فراز سے آگاہ کرتے ہیں۔یا یہ کرتے ہیں کہ اس کی دلیلوں کو مناسب طریقہ سے رڈ کرتے ہیں۔اور اسکی غلطی کو اس پر واضح کرتے ہیں۔پہلے طریقے کا نام حکمت ، دوسرے کا موعظہ حسنہ اور تعمیر سے کا نام جدال بطریق احسن ہے۔کے بنیادی طور پر یہی تین طریقے ہیں جن کی عملی تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات میں ملتی ہے۔قولی ہو یا فعلی دونوں کا انداز ایسا ہونا چاہیئے کہ مخاطبوں کے دلوں میں حق سرایت کر جائے اور وہ حق کی طرف جھک جائیں۔اسی طرح داعی الی اللہ کا طرز عمل بلکہ ہر نقل و حرکت بھی دعوت ہی ہونی چاہیئے۔جیسے لوگ جوق در جوق دائرہ حق میں داخل ہو جائیں۔حکمت عملی سے ان کے دلوں میں دین حق پر وثوق اور یقین پیدا ہو۔عملی موعظت سے اُن میں قناعت قلبی ہو اور عملی مجادلت سے ان کے شکوک و شبہات کا قلع قمع ہو جائے۔۱ - حکمت عملی :۔قرآنی نقطۂ نظر اور اسوۂ رسول میں حکمت کو دعوی سے طریق کار میں اولین اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔