دعوت الی اللہ — Page 12
۱۴ حکمت کا مطلب ہے کہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت۔استعداد اور حالات کو سمجھ کر نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے۔ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے۔پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرکن کی بیٹے اُکھاڑ سکتے ہوں۔حکمت ایک جامع اصطلاح ہے اور اس کے تحت وہ تمام طرز ہائے عمل آ جاتے ہیں جو مخاطب کو قبولِ حق پر آمادہ کریں۔مثلاً موقع ومحل کا لحاظ مخاطب کی نفسیات اور عقلی دلائل وغیرہ۔- موقع و محل : دعوت بلاشبہ ایک سچے جذبہ اور حقیقی لگن کی متقاضی - ہے۔لیکن جوش جنوں میں موقع و محل کا لحاظ نہ کرنا سخت مضر ہے۔مثلاً ایک داعی حق کو ان تمام اوقات میں دعوت حق سے اعراض کرنا چاہیے جب مخاطب اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف مائل ہو۔اسی طرح ایسے موقعہ سے داعی کو اعراض کرنا چاہیے جب مخاطب اپنی کسی ایسی دلچسپی میں منہمک ہو جس کو چھوڑ کر دعوت حق کی طرف متوجہ ہونا اس کی طبیعت پر گراں گزر ہے۔حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا! کہ لوگوں کو جمعہ جمعہ وعظ کیا کرو۔اگر اس سے زیادہ کرنا ہو تو ہفتہ میں دو بار۔اگر اس سے زیادہ کرنا ہو تو تین بار ، اور لوگوں کو اس قرآن سے بیزار نہ کرو۔اور ایسا نہ ہو کہ تم لوگوں کے پاس ایسے وقت میں آؤ جب وہ اپنی کسی اور دلچسپی میں مصروف ہوں۔اور اس وقت ان کو وعظ سنانا شروع کر دو۔