دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 14

ہوئے دعوت الی اللہ کے فریضے کو ادا کرنے کی طرف پہلے سے بڑھ کر آگے آنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے کلام کے باریک در باریک نکات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام تر دلائل کے ساتھ کھول کر بیان فرمایا اور ایک ایسا خزانہ ہمیں عطا فرمایا ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہ جو چیز تم اپنے لئے پسند کرتے ہو اپنے بھائی کے لئے بھی کرو۔( صحیح البخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه حدیث نمبر 13 ) ہمارا فرض ہے کہ یہ خزانہ جو قرآن کریم کی تعلیم کے علم ومعرفت سے بھرا ہوا ہے مسلمانوں تک بھی پہنچائیں اور غیر مسلموں تک بھی پہنچائیں اور شیطان کے چنگل سے نکال کر انہیں خدا تعالیٰ کا حقیقی عبد بنا ئیں۔انہیں نام نہاد علماء کے پنجے سے چھڑائیں جو انہیں اب اس زمانے کے امام سے دور کر رہے ہیں اور اس کے لئے یہ لوگ اپنی تمام تر طاقتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سالوں کی نسبت یہاں بھی اور دنیا کے ہر ملک میں بھی یہ رو چلی ہے کہ تعارف بڑھے ہیں اور لوگ احمدیت کے قریب ہورہے ہیں۔وسیع پیمانے پر احمدیت کو جانا جاتا ہے اور ملکوں کے بڑے بڑے شہروں میں احمدیت کو اب لوگ جاننے لگ گئے ہیں۔اور اس میں مسلمان اور غیر مسلم سب شامل ہیں۔لیکن اس کے لئے ہمیں بھی اپنی حالتوں کو عملی نمونہ بنانے کے ساتھ ان کے دلوں کو پھیرنے کے لئے دعا کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہماری حالتوں کی بہتری بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم حق نہیں ادا کر سکتے۔پس اس طرف بھی توجہ کی بہت ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے افراد کے ذریعہ کسی کی ہدایت پانے پر کس قدر خوشی ہوتی تھی ، آپ کے کیا جذبات اور احساسات ہوتے تھے، اس بات کا اندازہ 14