دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 15
آپ اس سے لگائیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خدا کی قسم ! تیرے ذریعہ سے ایک آدمی کا ہدایت پا جانا تیرے لئے اعلیٰ درجے کے سرخ اونٹوں کے ملنے سے مل جانے سے زیادہ بہتر ہے۔(صحیح البخاری کتاب الجہاد و السیر باب دعاء النبی الا ان الى الاسلام۔۔۔حدیث نمبر 2942) پس یہ سرخ اونٹ دنیا کی بہترین چیز کی مثال کے طور پر ہیں۔اس زمانے میں سرخ اونٹ بہت بڑی قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی اور اسی لئے اس مثال کو سامنے رکھا گیا۔پس فرمایا کہ تمہارے ذریعہ سے کسی کا ہدایت پا جانا تمہیں اتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتا ہے کہ دنیاوی انعاموں میں سے بہترین انعام کی بھی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دلی جذبات کا نقشہ کس طرح کھینچا ہے، لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے درد کا اظہار کس طرح فرمایا ہے ، فرماتے ہیں کہ ” ہمارے اختیار میں ہو تو ہم گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں اور ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچالیں۔اگر خدا تعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کر کے تبلیغ کریں اور اس تبلیغ میں زندگی ختم کر دیں خواہ مارے ہی جائیں“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 291 تا 292۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) پس اس درد کو سمجھنے کی ہمیں ضرورت ہے۔آپ میں سے یہاں اکثر تو اب جرمن زبان سمجھتے ہیں اور دنیا کے اکثر ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقامی زبانیں احمدی سمجھتے ہیں۔جو مختلف قومیں یہاں اس ملک میں بھی آباد ہیں وہ بھی جرمن زبان سمجھ لیتی ہیں۔پھر لٹریچر بھی میسر ہے۔پھر کیسٹس بھی مہیا ہیں۔پھر مختلف زبانوں کے ہمارے پاس علماء بھی ہیں 15