دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 13

پڑتا ہے اگر تم میری عبادت کرتے ہو یا نہیں کرتے۔گوشیطان کو بھی خدا تعالیٰ نے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ بندوں کو ورغلانے اور خدا تعالیٰ سے دور کرنے میں بیشک جو کوشش کرنی ہے کرتے رہو۔لیکن انبیاء کے ذریعے سے ہماری رہنمائی کے بھی سامان فرما دیئے۔اور پھر انبیاء کے ماننے والوں کو بھی حکم دیا کہ انبیاء کے کام کو تم آگے بڑھاؤ اور دعوت الی اللہ کے کام کو بھی کبھی ختم نہ ہونے دو۔پس اس زمانے میں جہاں شیطان یا شیطانی طاقتیں اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ دنیا کو شیطان کی جھولی میں گرانا چاہتی ہیں وہاں دوسری طرف خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ دنیا کی ہدایت کی طرف رہنمائی کرو۔اور جیسا کہ میں نے جمعہ کے خطبے میں بھی کہا تھا کہ اس بگڑے ہوئے وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کونئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لئے بھیجا تھا۔(ماخوذ از تذکرہ صفحہ 154 ایڈیشن چہارم بحوالہ چشمہ مسیحی، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 375 حاشیہ ) اور اب ہم میں سے ہر ایک نے اس نئی زمین اور نئے آسمان کو بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔اور جہاں اپنے دلوں کی زمین ہموار کر کے اللہ تعالیٰ کی یاد کو آباد کرنا ہے وہاں دنیا کونئی زمین اور نئے آسمان بنانے کے طریقے بھی سکھانے ہیں۔بہر حال دنیا میں یہ دو گروہ ہیں۔ایک شیطان کے بہکاوے میں آنے والا اور دوسرے خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے۔اور آج روئے زمین پر جماعت احمدیہ ہی وہ حقیقی جماعت ہے جو دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کا حقیقی کردار ادا کر رہی ہے یا کر سکتی ہے اور ہمیں اس جماعت میں شامل کر کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔اور اس احسان کا شکر ادا کرنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے۔اور یہ کوشش کرتے 13