دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 12
نرم کرنے والی ہو اور سننے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالنے والی بات ہو۔قرآن کریم ہمیں صرف خشک باتیں پیش کرنے کے لئے نہیں کہتا بلکہ ایسا طریق ہو جو منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات کو ابھارنے والا بھی ہو اور واقعاتی بھی ہو۔لیکن پھر وہی بات کہ جذبات ابھارنے کے لئے مبالغہ نہ ہو بلکہ سچائی سے کام لیا جائے۔اسلام تو ہے ہی سچائی کا نام۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم سچائی سے ہٹ کر کوئی اور بات کریں۔اور ایسی دلیل ہو جو بنیادی ہو اور اس کے گرد ہی تمام دلائل گھومتے رہیں، یہ بھی بڑا ضروری ہے۔مسلمانوں کو مسیح موعود کی آمد کی بات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کی جائے۔کسی کو زبردستی اپنے اندر لایا نہیں جا سکتا۔ہمارا کام تبلیغ کرنا ہے اور ہدایت دینا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔وہ بہتر جانتا ہے کون ہدایت پائے گا۔اس لئے ہمارے ذمہ جو کام لگا یا گیا ہے ہم نے وہ کرنا ہے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم السجدۃ میں بیان فرمایا ہے جو میں نے ترجمہ پہلے پڑھ بھی دیا ہے کہ اور بات کہنے میں اس سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقینا کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے کاموں میں سے بہترین کام اور تمہاری باتوں میں سے بہترین بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سچائی ،حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ سے دنیا تک پہنچاؤ کیونکہ خدا تعالیٰ کو یہی بات سب سے زیادہ پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے تم بھی خدا تعالیٰ کے پسندیدہ بن جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کو جو چیز سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہی ہے کہ انسان شیطان کے پنجے سے نکل کر صحیح عابد اور خدا پرست بن جائے اور اس کا فائدہ خدا تعالیٰ کو نہیں بلکہ انسان کو ہی ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے مجھے کیا فرق 12