دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 5

5 کسی نے دیکھا پھر کیا الیکٹرسٹی کی مدد سے جو تار خبریں پہنچتی ہیں یا مشینیں چلتی ہیں یا روشنی کی جاتی ہے اسکا انکار کیا جا سکتا ہے۔ایتھر کی تحقیقات نے فزیکل علوم کی دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے لیکن کیا اب تک سائنس کے ماہرین اسکے دیکھنے سنے سونگھنے چھونے یا چکھنے کا کوئی ذریعہ نکال سکے۔لیکن اس کا وجود نہ مانیں تو پھر یہ بات حل ہی نہیں ہو سکتی کہ سورج کی روشنی دنیا تک پہنچتی کیونکر ہے۔پس کیسا ظلم ہے کہ ان شواہد کے ہوتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ خدا کو دکھاؤ تو ہم ما نیں گے۔اللہ تعالیٰ نظر تو آتا ہے لیکن انہیں آنکھوں سے جو اس کے دیکھنے کے قابل ہیں۔ہاں اگر کوئی اسکے دیکھنے کا خواہشمند ہو تو وہ اپنی قدرتوں اور طاقتوں سے دنیا کے سامنے ہے اور باوجود پوشیدہ ہونے کے سب سے زیادہ ظاہر ہے۔قرآن شریف میں اس مضمون کو نہایت ہی مختصر لیکن بے نظیر پیرایہ میں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام : ۱۰۴) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں بلکہ وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور وہ لطیف اور خبر دار ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تیری نظر اس قابل نہیں کہ خدا کی ذات کو دیکھ سکے کیونکہ وہ تولطیف ذات ہے اور لطیف اشیاء تو نظر نہیں آتیں جیسا کہ قوت ہے عقل ہے روح ہے بجلی ہے ایتھر ہے یہ چیزیں کبھی کسی کو نظر نہیں آتیں پھر خدا کی لطیف ذات تک انسان کی نظریں کب پہنچ سکتی ہیں۔ہاں پھر خدا کو لوگ کس طرح دیکھ سکتے ہیں اور اس کی معرفت کے حاصل کرنے کا کیا طریق ہے اسکا جواب دیا کہ وَهُوَ يُدْرِكُ الابصار یعنی خود وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور باوجود اسکے کہ انسانی نظر کمزوری کی وجہ سے اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی وہ اپنی طاقت اور قوت کے اظہار سے وہ اپنی صفات کا ملہ کے جلوہ سے اپنا وجود آپ انسان کو دکھاتا ہے اور گو نظر انسانی اس کے دیکھنے سے قاصر ہے مگر وہ خود اپنا وجود اپنی لا انتہاء قوتوں اور قدرتوں سے مختلف پیراؤں