دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 6
6 میں ظاہر کرتا ہے کبھی قہری نشانوں سے کبھی انبیاء کے ذریعہ سے کبھی آثار رحمت سے اور کبھی قبولیت دعا سے۔اب اس بات کے ثابت کر چکنے کے بعد کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ماننا اس بات پر منحصر کیا جائے کہ ہم اسے دکھا دیں اور سوائے دیکھنے کے کسی چیز کو ماناہی نہ جائے تو دنیا کی قریبا5 /4اشیاء کا انکار کرنا پڑیگا اور بعض فلاسفروں کے قول کے مطابق تو کل اشیاء کا۔کیونکہ ان کا مذہب ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نظر نہیں آتی بلکہ صرف صفات ہی صفات نظر آتی ہیں۔اب میں اسطرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ کون سے دلائل ہیں جن سے وجود باری تعالیٰ کا پتہ لگتا ہے اور انسان کو یقین ہوتا ہے کہ میرا خالق کوئی اور ہے اور میں ہی اپنا خالق نہیں۔دلیل اوّل میں اپنے اس عقیدہ کے ماتحت کہ قرآن شریف نے کمالات روحانی کے حصول کے تمام ذرائع بیان فرمائے ہیں۔ہستی باری کے کل دلائل قرآن شریف سے ہی پیش کرونگا۔وَمِن الله التَّوْفیق اور چونکہ سب سے پہلا علم جو انسان کو اس دنیا میں آکر ہوتا ہے وہ کانوں سے ہوتا ہے اسلئے میں بھی سب سے پہلے سماعی دلیل ہی لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَلَى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ اِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى ( الاعلیٰ : ۱۵ - ۲۰) یعنی مظفر و منصور ہو گیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا اور اسنے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے عبادت کر کے اپنے اقرار کا ثبوت دیا لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو