دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 4
4 اور ہے مثلاً عقل یا حافظہ یا ذہن ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا انکار دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا لیکن کیا کسی نے عقل کو دیکھا ہے یا سنا یا چکھایا سونگھا یا چھوا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ عقل کوئی چیز ہے یا حافظہ کا کوئی وجود ہے پھر قوت ہی کو لے لو ہر انسان میں تھوڑی بہت قوت موجود ہے کوئی کمزور ہو یا طاقت ور مگر کچھ نہ کچھ طاقت ضرور رکھتا ہے مگر کیا قوت کو آج تک کسی نے دیکھا یا سنایا چھڑا یا چکھا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ قوت بھی کوئی چیز ہے اس بات کو ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ ان چیزوں کو ہم نے اپنے حواس سے معلوم نہیں کیا بلکہ ان کے اثرات کو معلوم کر کے ان کا پتہ لگایا ہے مثلاً جب ہم نے دیکھا کہ انسان مختلف مشکلات میں گھر کر کچھ دیر غور کرتا ہے اور کوئی ایسی تدبیر نکالتا ہے جس سے وہ اپنی مشکلات دور کر لیتا ہے جب اس طرح مشکلات کو حل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا تو یقین کر لیا کہ کوئی چیز ایسی انسان میں موجود ہے جو ان موقعوں پر اس کے کام آتی ہے اور اس چیز کا نام ہم نے عقل رکھا۔پس عقل کو بلا واسطہ ہم نے پانچوں حواسوں میں سے کسی سے بھی دریافت نہیں کیا بلکہ اس کے کرشموں کو دیکھ کر اسکا علم حاصل کیا اسی طرح جب ہم نے انسان کو بڑے بڑے بوجھ اٹھاتے دیکھا تو معلوم کیا کہ اس میں کچھ ایسا مادہ ہے جس کی وجہ سے یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اپنے سے کمزور چیزوں کو قابو کر لیتا ہے اور اس کا نام قوت یا طاقت رکھ دیا۔اس طرح جس قدر لطیف سے لطیف اشیاء کو لیتے جاؤ گے انکے وجود انسانوں کی نظروں سے غائب ہی نظر آئیں گے اور ہمیشہ ان کے وجود کا پتہ ان کے اثر سے معلوم ہوگا نہ کہ خود انہیں دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ اور چُھو کر۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات جو الطف سے الطف ہے اس کا علم حاصل کرنے کیلئے ایسی ایسی قیدیں لگانی کس طرح جائز ہوسکتی ہیں کہ آنکھوں کے دیکھے بغیر اسے نہیں مانیں گے کیا بجلی کو کہیں