دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 3
3 شخص کہے کہ میں تو رنگ کو تب مانوں گا کہ اگر مجھے اسکی آواز سنواؤ تو کیا وہ شخص بیوقوف ہے یا نہیں۔اسی طرح آواز کا علم سننے سے ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے فلاں شخص کی آواز دکھاؤ پھر میں دیکھ کر مانوں گا کہ وہ بولتا ہے تو کیا ایسا شخص جاہل ہوگا یا نہیں۔ایسا ہی خوشبو سونگھ کر معلوم ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص طلب کرے کہ اگر تم مجھے گلاب کی خوشبو چکھا دو تو تب میں مانوں گا تو کیا ایسے شخص کو دانا کہہ سکیں گے۔اس کے خلاف چکھ کر معلوم کرنے والی چیزوں یعنی ترشی ، شیرینی، کڑواہٹ نمکینی کو اگر کوئی سونگھ کر معلوم کرنا چاہے تو کبھی نہیں کرسکتا پس یہ کوئی ضروری نہیں کہ جو چیز سامنے نظر آئے اسے تو ہم مان لیں اور جو چیز سامنے نظر نہ آئے اسے نہ مانیں ورنہ اس طرح تو گلاب کی خوشبو، لیموں کی ترشی ،شہد کی مٹھاس، مصبر کی کڑواہٹ، لوہے کی سختی ، آواز کی خوبی سب کا انکار کرنا پڑیگا کیونکہ یہ چیزیں تو نظر نہیں آتیں بلکہ سونگھنے چکھنے چھونے اور سننے سے معلوم ہوتی ہیں پس یہ اعتراض کیسا غلط ہے کہ خدا کو ہمیں دکھاؤ تب ہم مانیں گے کیا یہ معترض گلاب کی خوشبو کو دیکھ کر مانتے ہیں یا شہد کی شیرینی کو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ شرط پیش کی جاتی ہے کہ دکھا دو تب مانیں گے۔علاوہ ازیں انسان کے وجود میں خود ایسی چیزیں موجود ہیں کہ جن کو بغیر دیکھے کے یہ مانتا ہے اور اسے ماننا پڑتا ہے۔کیا سب انسان اپنے دل جگر دماغ انتڑیاں پھیپھڑے اور تلی کو دیکھ کر مانتے ہیں یا بغیر دیکھے کے۔اگر ان چیزوں کو اس کے دکھانے کیلئے نکالا جاوے تو انسان اسی وقت مرجائے اور دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔یہ مثالیں تو میں نے اس بات کی دی ہیں کہ سب چیزیں صرف دیکھنے سے ہی معلوم نہیں ہوتیں بلکہ پانچ مختلف حواس سے ان کا علم ہوتا ہے اب میں بتاتا ہوں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا علم بلا واسطہ ان پانچوں حواس سے بھی نہیں ہوتا بلکہ ان کے معلوم کرنے کا ذریعہ ہی