دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 2
2 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم افی اللَّهِ شَكٌ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ دلائل ہستی باری تعالی اس زمانہ میں عقائد و ایمانیات پر جو مادی دنیا نے اعتراضات کئے ہیں ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ انکار ذات باری ہے۔مشرک گو خدا کا شریک ان کو بناتا ہے لیکن کم سے کم خدا تعالیٰ کے وجود کا تو قائل ہے دہر یہ بالکل ہی انکاری ہے موجودہ سائنس نے ہر چیز کی بنیاد مشاہدات پر رکھی ہے اسلئے دہر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کوئی خدا ہے تو ہمیں دکھاؤ ہم بغیر دیکھے کے اسے کیونکر مان لیں۔چونکہ اسوقت کی ہوا نے اکثر نو جوانوں کے دلوں میں اس پاک ذات کے نقش کو مٹادیا ہے اور کالجوں کے سینکڑوں طالب علم اور بیرسٹر وغیرہ وجود باری کے منکر ہورہے ہیں اور انکی تعداد روز افزوں ہے اور ہزاروں آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو بظا ہر قوم و ملک کے خوف سے اظہار تو نہیں کرتے لیکن فی الحقیقت اپنے دلوں میں وہ خدا پر کچھ یقین نہیں رکھتے۔اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں اس پر ایک چھوٹا ساٹریکٹ لکھ کر شائع کروں شائد کسی سعید روح کو اس سے فائدہ پہنچ جائے۔1 - دہریوں کا پہلا سوال یہ ہے کہ اگر خدا ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیتے ہیں۔مجھے اس سوال کے سنے کا کئی بار موقع ملا ہے لیکن ہمیشہ اس کے سننے سے حیرت ہوتی ہے انسان مختلف چیزوں کو مختلف حواس سے پہچانتا ہے کسی چیز کو دیکھ کر کسی کو چھوکر کسی کو سونگھ کر کسی کو سن کر کسی کو چکھ کر ، رنگ کا علم دیکھنے سے ہو سکتا ہے سونگھنے یا چھونے یا چکھنے سے نہیں پھر اگر کوئی