دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 46 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 46

46 دہلی سے قادیان تک سفر میں حضور کی حرم حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حضور کے ہمراہ نہیں آسکیں۔آپ بوجہ علالت کے دہلی میں ہی ٹھہر گئی تھیں۔صاحبزادہ مرزا سفیر احمد صاحب اور صاحبزادی شوکت جہاں صاحبہ مع بچگان حضرت بیگم صاحبہ کے پاس دہلی میں ہی ٹھہرے رہے اور ۲۳ / دسمبر کو حضرت بیگم صاحبہ کے ہمراہ دہلی سے قادیان آئے۔کوئلہ کے انجن سے چلنے والی ” میلہ ٹرین امرتسر سے قادیان کے لئے سوا چار بجے روانہ ہوئی۔ٹرین کی روانگی سے قبل حضور قریباً نصف گھنٹہ سے زائد ٹرین کے دروازہ میں کھڑے رہے اور حضور کی جاذب نظر اور پرکشش شخصیت کو ایک نظر دیکھنے کیلئے سٹیشن پر ہجوم کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ٹرین سہل رفتاری سے مسافت طے کرتی ہوئی بٹالہ پہنچی۔جہاں پر ایڈیشنل ڈی سی اور S۔D۔M بٹالہ نے حضور پر نور کا استقبال کیا اور ملاقات کا شرف حاصل کیا۔حضور نے ان دونوں معززین سے چند منٹ گفتگو فرمائی۔یہاں حضور نے خاکسار (بادی علی ) کو ارشاد فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شدید ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب یہاں کے رہنے والے تھے۔اُن کے بارہ میں پتا کیا جائے کہ آج اس شہر میں اُن کو جاننے والا کوئی ہے بھی کہ نہیں؟“ حضور؟ کے اس ارشاد کی تعمیل میں تحقیق کی گئی جس کی تفصیل ضمیمہ میں ملاحظہ فرمائیں۔اس تحقیق کا ذکر حضور انور نے جلسہ سالانہ قادیان کے افتتاحی خطاب میں بھی فرمایا۔بٹالہ سے بی ٹرین روانہ ہوئی اور بالآخر قادیان کی مقدس بسنتی کے قریب پہنچی تو حضور کی خواہش کے مطابق اس جگہ پر روک دی گئی جہاں سے مینارہ اسیح دکھائی دینے لگتا ہے۔چنانچہ حضور پر نور گاڑی کے دروازہ میں تشریف لے آئے۔گاڑی رکی تو کچھ افرا دا تر کر حضور کے قریب پہنچ گئے اور پھر فضاء نعرہ ہائے تکبر اللہ اکبر سے گونج اٹھی۔چند لحوں کیلئے حضور اقدس کی دیدار قادیان کیلئے بے قرار اور تشنہ نگاہیں منارہ اسیح پر مرکوز ہو گئیں۔کچھ لمحے منارة امسیح کو جو کہ شام کے دھند لکے میں روشنیوں سے بقعہ نور بنا ہوا انتہائی خوبصورت اور نورانی نظر آ رہا تھا، دیکھنے کے بعد حضور پر نور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔اس پر تمام شر کا ء سفر بھی حضور کے ساتھ دعا میں شامل ہو گئے۔دعا کے بعد اراکین قافلہ اور شر کا ء سفر نے پر جوش نعرے لگانے شروع کئے تو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے