دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 47 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 47

47 قادیان دارالامان اور درویشان قادیان کے نعرے لگانے کی ہدایت فرمائی۔جس پر فضا ان نعروں سے گونج اٹھی۔قادیان میں ورود مسعود سات بجے شام ٹرین قادیان کے ریلوے اسٹیشن پر آکر رکی اور بالآخر ۴۴ سال کے طویل انتظار کے بعد وہ تاریخی لمحات آن پہنچے جب قادیان دارالامان کی مقدس سرزمین پر خلیفہ ایسیح نے اپنے مبارک قدم رکھے۔قادیان کے ریلوے سٹیشن پر استقبال کے لئے ایک ہجوم جمع تھا جس کی محبت و وارفتگی قابل دید تھی۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع ٹرین سے باہر تشریف لائے تو حسب ذیل افراد نے آپ کا استقبال کیا: حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلی ربوہ، چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ ربوہ ،صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب، سید میر مسعود احمد صاحب، سید میر محمود احمد صاحب ناصر ربوہ ، ملک صلاح الدین صاحب صدر وقف جدید قادیان سید عبداحی صاحب ناظر اشاعت ربوہ، مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح و ارشادر بوه، جمیل الرحمن رفيق صاحب وكيل التصنيف ربوہ ، مکرم ماسٹر مشرق علی صاحب امیر بنگال ،مکرم عبد الحمید ٹاک صاحب امیر جماعت کشمیر، حافظ صالح محمد اللہ دین صاحب امیر آندھرا پردیش ، مولانا سلطان احمد ظفر مبلغ کلکتہ، مولانامحمد انعام غوری صاحب قادیان ، ملک عبدالباری صاحب یوکے ، بشیر احمد شیدا صاحب یو کے نیز قادیان کی انجمن احمدیہ کے دیگر ناظران ان کے نائبین و کارکنان وغیرہ اور اہالیان قادیان اور مہمانان وغیرہ کثرت سے موجود تھے۔شام کے اندھیرے میں چونکہ اس جگہ ہجوم کی وارفتگی کا ساں ایسا بے اختیار تھا کہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اپنے آقا کے قدم لینے کے لئے کون کون تھا جو وہاں آنکھیں بچھائے ہوئے تھا۔بس جو افراد اُس وقت وہاں شناخت کئے جا سکے اُن کے نام تو تحریر کر دیئے گئے ہیں۔امرتسر سے بھی بڑی کثیر تعداد میں احباب اسی ٹرین میں سوار ہوئے تھے جو شاہ قادیان کو قادیان پہنچا رہی تھی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح نے جو نہی ٹرین سے باہر قدم رکھا قادیان کی فضا فلک بوس نعروں سے بھر گئی۔ہر سمت سے حضرت امیر المومنین۔زندہ باد، قادیان دارالامان - زنده باد ، درویشان امیرالم قادیان۔زندہ باد، اسیرانِ راہ مولیٰ۔زندہ باد، شہدائے احمدیت۔زندہ باد ،غلام احمد کی جے۔کے