دورۂ قادیان 1991ء — Page 45
45 کانسٹیبل ۴۔مصری لال صاحب کا نسٹیبل ۵ - چرن سنگھ صاحب کانسٹیبل امرتسر سے قادیان شان پنجاب ایکسپریس براستہ پانی پت، انبالہ، جالندھر اور لدھیانہ اڑھائی بجے بعد دو پہر امرتسر پہنچی۔ریلوے سٹیشن پر حضور کو امرتسر میں خوش آمدید کہنے کے لئے وہاں کے ڈی سی اور ایس پی بھی موجود تھے۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ، مکرم منظور احمد صاحب گجراتی وکیل اعلیٰ تحریک جدید قادیان مکرم خورشید احمد انور صاحب ناظم وقف جدید، مکرم مولوی جلال الدین نیر صاحب نمائندہ انصار اللہ بھارت، محترمہ امتہ القدوس بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ بھارت اور بعض دیگر افراد جماعت بھی اپنے آقا کے استقبال کیلئے پہلے سے موجود تھے۔آپ ڈی سی اور ایس پی امرتسر سے چندمنٹ گفتگو فرماتے رہے۔پھر وہ حضور کو امرتسر سے قادیان جانے والی ٹرین تک پہنچانے کے بعد آپ سے اجازت لیکر رخصت ہو گئے۔جس ٹرین میں سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے امرتسر سے قادیان کے لئے روانہ ہونا تھا، اس کا نام ”میلہ ٹرین تھا اور اسکی روانگی کا وقت چار بجے سہ پہر تھا۔ایک عرصہ سے یہ ٹرین بند تھی حکام نے اس تاریخی جلسہ کی وجہ سے اسے دوبارہ جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔اس کا ایک تاریخی اور خوشکن اتفاقی پہلو یہ بھی ہے جو یقیناً قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا کہ حضور کی پیدائش کے اگلے روز یعنی ۹ار دسمبر ۱۹۲۸ء کو پہلی بارٹرین قادیان آئی تھی اور آج یہ ٹرین جس پر حضور کو قادیان تک سفر کرنا تھا ایک لمبے عرصہ کے تعطل کے بعد پہلی بار ۱۹؍ دسمبر کو ہی قادیان جا رہی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مکرم منیر احمد صاحب حافظ آبادی ناظر امور عامہ نے حضور کی ہدایت پر دہلی سے ریلوے اتھارٹی سے ملاقات کر کے جلسہ سالانہ کے دنوں میں اس ٹرین کو جاری کروانے کی کارروائی کی۔اس موقع پر موصوف نے خاص طور پر ریلوے حکام سے ذکر کیا کہ ۱۸؍ دسمبر حضور کا جنم دن ہے۔اس لئے ۱۸ دسمبر سے اس ٹرین کو چلانے کے آرڈر جاری کئے جائیں۔اس درخواست کو ریلوے حکام نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔