دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 239 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 239

239 سے چولہ کے اوپر لیٹے ہوئے غلاف نظر آتے ہیں۔بس اسی طرح چولہ صاحب کا دیدار ان شیشوں میں سے ہی کیا جاتا ہے۔اس کے تالے کھول کر اصل چولہ صاحب کا دیدار عوام کو تو کیا خواص کو بھی نہیں کرایا جا تا۔اس چولہ کے محافظ اعلیٰ مکرم انوپ سنگھ بیدی صاحب ہیں۔یہ بھی حضرت باوا نانک جی کی براہِ راست صلب سے ہیں۔انہوں نے ہمارا بہت خوشی سے استقبال کیا اور ہماری درخواست پر اس فریم کا تالہ کھول کر بڑی وسعت قلبی سے ہمیں چولہ صاحب دکھایا۔ہم نے اسے مس بھی کیا۔اس کا کپڑا کھدر کی قسم کا نسبتا کھلی بانتی والا ہے۔مرور زمانہ کی وجہ سے اس کا رنگ بھورا سا ہو چکا ہے اور تحریروں کی سیاہی بھی خا کی ہو چکی ہے۔کپڑ اخستگی کی طرف مائل ہے بلکہ بعض جگہوں سے پھٹ بھی چکا ہے۔اس کو تہہ کر کے رکھا گیا ہے۔خستگی کی وجہ سے اس کی ساری تہیں کھولنی مشکل تھیں۔اس لئے جناب انوپ سنگھ بیدی صاحب نے ہمیں چند تہیں ہی کھول کر دکھا ئیں۔جن میں کلمہ شہادۃ ، اسمائے باری تعالی ، آیات قرآنیہ وغیرہ ہم نے مشاہدہ کیں۔اس پاک چولہ کی تصاویر ہم نے اتاریں۔اس چولہ صاحب کی فلم MTA پر بھی ایک سے زائد بار دکھائی جا چکی ہے۔مکرم انوپ سنگھ بیدی صاحب نے جس طرح خندہ پیشانی اور اپنائیت کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا اور جس وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس غیر معمولی سعادت سے ہمیں نوازا کہ ہمیں یہ سر بستہ پاک چولہ صاحب دکھایا ہمارے دل ان کے لئے جذبات تشکر سے لبریز ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے۔جناب انوپ سنگھ بیدی صاحب جماعت قادیان سے بہت محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔جب یہ لندن تشریف لائے تو حضور انور نے ان کا شایان شان استقبال فرمایا۔محمود ہال مسجد فضل لندن میں ان کا ایک پروگرام بھی رکھا گیا جس میں کثیر تعداد میں احباب جماعت نے شرکت کی اور ان کے شبدوں سے حظ پایا۔چولہ باوانا نگ کے دیدار کے بعد ہم اس عمارت میں گئے جہاں وفات کے بعد حضرت باوانا تک جی کی نعش مبارک ایک چادر کے نیچے رکھی گئی تھی۔صبح دیکھا گیا تو اس چادر کے نیچے سے آپ کی نعش غائب تھی۔چنانچہ یہ چادر آدھی مسلمانوں نے لے لی اور آدھی ہندوؤں نے۔جو حصہ چادر کا ہندوؤں کے پاس تھا وہ اس عمارت میں دفن کیا گیا ہے۔جس کے اوپر ایک سنہری محراب بنی