دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 238 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 238

238 سے چولہ دیکھنے کا موقع ملا۔اس چولہ پر سینکڑوں رومال لیٹے ہوئے تھے جو بھی بڑا آدمی آتا۔اس پر کوئی قیمتی رومال بطور چڑھاوا چڑھا جاتا۔مگر کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔حضرت اقدس اور حضور کے ساتھیوں نے کافی رقم چولہ دکھانے والے شخص کو دے کر چولہ دیکھا حضرت اقدس نے مختلف احباب کے ذمہ ڈیوٹی لگادی تھی کہ فلاں شخص دائیں بازو پرلکھی ہوئی عبارت نقل کریں فلاں بائیں بازو کی اور فلاں سینہ پر کی وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ ہر دوست نے اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کی۔معلوم ہوا کہ اس چولہ پر لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ إِنَّ الذِيْنَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔سورۃ فاتحہ، آیت الکرسی اور سورۃ اخلاص وغیر لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ حضور نے واپس قادیان تشریف لا کر اس سفر کے حالات پر مشتمل ایک کتاب ست بچن لکھی جس میں علاوہ چولہ صاحب کا فوٹو درج کرنے کے جنم ساکھیوں سے بھی متعدد حوالے اس امر کے ثبوت میں پیش کئے کہ باوانا تک صاحب مسلمان تھے۔اس واقعہ کے تقریبا۹۵ سال بعد صدسالہ جلسہ سالا نہ قادیان کے موقع پر حضرت خلیفہ اسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خواہش سے لندن کا ہمارا ایک وفد چولہ صاحب کے دیدار کے لئے گیا تا کہ اس مقدس چولہ کی وڈیو فلم بھی بنالی جائے اور تصاویر بھی اتار لی جائیں۔قادیان سے مکرم فضل الہی درویش صاحب ہمارے ساتھ تھے۔انہوں نے اپنے بہت ہی قابلِ قدر دوست مکرم کلدیپ سنگھ بیدی صاحب آف بٹالہ کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔بیدی صاحب حضرت گرو بابا نانک جی سے براہِ راست سولہویں پشت میں سے ہیں اور بٹالہ میں مقیم ہیں جہاں وکالت کرتے ہیں۔ان کی وجہ سے ہمارا یہ سفر بہت کامیاب ثابت ہوا۔ہمارے وفد میں حسب ذیل ارکان تھے۔مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب، مکرم را ویل بخارا بیو صاحب ، مکرم سعید احمد جسوال صاحب، مکرم وسیم احمد جسوال صاحب، مکرم مسٹر ایڈمسن صاحب (مصنف کتاب A Man of God)، خاکسار ہادی علی یکم جنوری ۱۹۹۲ء کو ہم صبح دس بجے کے قریب ڈیرہ باوانا تک کیلئے روانہ ہوئے۔تقریباً ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ڈیرہ باوا نا نک ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں ایک مکان میں حضرت باوانا تک جی کا وہ مقدس چولہ لکڑی کی ایک کھٹولی سی میں رکھا گیا ہے جس کے اوپر والے حصوں پر شیشے کے فریم میں جو موٹے کپڑے سے ڈھکے رہتے ہیں ان شیشوں میں