دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 237 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 237

237 زیارت مقدس چولہ حضرت با وانا تک رحمۃ اللہ علیہ قریباً ۱۸۷۲ء کی بات ہے کہ حضرت اقدس نے باوانا تک گودو مرتبہ خواب میں دیکھا ان سے باتیں بھی کیں اور انہوں نے اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں اور اسی چشمہ سے پانی پیتا ہوں جس سے آپ پیتے ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی ذات میں تو یقین تھا کہ باوانا نک مسلمان تھے لیکن چونکہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں تھا اس لئے میں خاموش تھا۔مگر ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ثبوت مہیا کر دیئے جن سے یہ امر حق الیقین تک پہنچ گیا کہ آپ مسلمان تھے۔ان میں سے چولہ صاحب ایک اہم ترین ثبوت ہے۔یہ بات بہت مشہور تھی کہ حضرت باوانانک کے پاس ایک چولہ تھا جو انہیں آسمان سے ملا تھا وہ چولہ ڈیرہ باوانا تک ضلع گورداسپور میں کا بلی مل کی اولاد کے قبضہ میں تھا اور اس کی زیارت کرنے کے لئے بڑی بڑی دُور سے سکھ احباب آیا کرتے تھے اور سکھوں کو جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تھی۔اس چولہ کو سر پر رکھ کر دعائیں کرتے اور وہ مشکل حل ہو جاتی۔چولہ صاحب کی اس تعریف کو سن کر حضرت اقدس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس چولہ کو ضرور دیکھنا چاہئے۔چنانچہ آپ استخارہ مسنونہ کے بعد ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو پیر کے دن صبح اپنے چند احباب کے ساتھ جن کے نام درج ذیل ہیں ڈیرہ باوانا نک کی طرف روانہ ہوئے۔ا۔حضرت مولاناحکیم نورالدین صاحب۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب ۳۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ۴۔جناب منشی غلام قادر صاحب فصیح ۵۔حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب ( بھائی جی) ۶۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ے۔جناب مرزا ایوب بیگ صاحب ۹۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب۔حضرت میر ناصر نواب صاحب ۱۰۔حضرت شیخ حامد علی صاحب قریبا دس بجے قبل دو پہر آپ ڈیرہ باوانا تک پہنچے۔گیارہ بجے ایک مخلص دوست کی کوشش