دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 222 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 222

222 مردوں کے اجتماعی قیام کا۔اور دونوں کے لیے ضروری سہولتیں اپنے اپنے حصہ میں ہوں۔بیچ میں ایک جگہ مشترکہ طور پر باہر سے آنے والے اور ملنے والوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔اوپر کی منزل پر چھوٹے چھوٹے فیملی یونٹس سٹوڈیو فلیٹ ٹائپ کے ہو جائیں جس میں چھوٹا سا چولہا بھی مہیا ہو جائے اور Wash basin بھی۔ٹائلٹ اور باتھ روم وغیرہ ایک طرف اکٹھے بن سکتے ہیں۔اس عمومی نقشے کے پیش نظر اگر آپ کے ملک کی جماعت کو دلچسپی ہو تو جائزہ لیکر مطلع فرمائیں۔فی الحال اس کا تخمینہ لگانا تو مشکل ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ مختلف سائزوں کے مطابق ایسے گیسٹ ہاؤس پر اگر بہت چھوٹا ہو تو پانچ لاکھ تک اور درمیانے درجہ کا معقول سائز ہوتو ہیں لاکھ روپے تک کا بن سکے گا۔لیکن یہ تفصیلات تو بعد میں طے ہوں گی پہلے آپ اپنے اندازے لگا کر کوائف سے مطلع کریں کہ انداز آپ کے ملک کو کتنے فیملی کمروں کی اور کتنی اجتماعی رہائش کی ضرورت پیش آئے گی اور انداز اکتنا خرچ آپ اپنے ملک کی طرف سے پیش کرسکیں گے۔اس کے مطابق پھر آرکیٹیکٹ صاحب مشور ہ دیں گے ، چونکہ وقت تھوڑا ہے۔اسلیے جتنی جلدی ممکن ہو مجھے مذکورہ بالا کوائف بھجوائیں تا کہ اس کی روشنی میں مزید اقدامات کیے جاسکیں۔جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء والسلام خاکسار دستخط حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ مسیح الرابع ) مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب افسر جلسہ سالانہ ، مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نائب ا سالانہ اور مکرم چوہدری اللہ بخش صاحب ناظر خدمت درویشاں ۳۰ را پریل ۱۹۹۱ء کو دہلی پہنچے اور وہاں سے قادیان کا ویزا حاصل کرنے کے بعد ۴ رمئی ۱۹۹۱ء کو قادیان پہنچے۔اس سفر میں مکرم آفتاب احمد خان صاحب امیر یو۔کے بھی اُن کے ہمراہ تھے۔سفر پر روانہ ہونے سے پہلے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے حضور سے ہدایات مرحمت فرمانے کی درخواست کی تو حضور انور نے اُن کو مورخہ ۹۱-۴-۲۴ کولکھا کہ:۔وو اصل بات یہ ہے کہ آپ اور امیر صاحب یو۔کے میرے نمائندہ ہیں۔“ اس کے بعد پاکستان سے مندرجہ ذیل چار انجینئر صاحبان نے قادیان آکر اپنا اپنا کام شروع کر دیا :۔