دورۂ قادیان 1991ء — Page 215
215 اس دعا کے ساتھ یہ دعا بھی لازم ہے کہ خدا تعالیٰ ہندوستان کو امن عطا فرمائے اور ہندوستان کے شمال و جنوب میں نفرتوں کی جو تحریکات چلائی جارہی ہیں اور ہندوستانی بھائی اپنے ہندوستانی بھائی کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ وحشت دور کرے اور سارے ہندوستان کو انسانیت کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ وابستہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہندو مسلمانوں اور سکھوں اور پارسیوں اور دیگر مذاہب کے سب لوگوں کو اختلاف مذہب کے باوجود ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ بات سب اہل ہند کے دل میں جاگزیں فرمائے کہ کوئی سچا مذ ہب خدا کے بندوں سے نفرت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ مذہب کی صداقت کا نشان یہی ہے کہ بندگانِ خدا سے رحمت و شفقت کی تعلیم دے۔یادرکھیں کہ جو مخلوق سے محبت نہیں کرتا وہ خالق سے بھی محبت نہیں کرتا۔پس احباب جماعت کو کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہندوستان کو اور اسی طرح باقی دنیا کو بھی امن نصیب فرمائے۔قیامِ امن کے سلسلہ میں جماعت احمد یہ عالمگیر کو میں پہلے ہی بار ہا نصیحت کر چکا ہوں۔اب خصوصیت سے ہندوستان کی جماعتوں کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں آئندہ سال کے تاریخی جلسہ کے انعقاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلے سے کہیں بڑھ کر ہندوستان کے لئے اور اپنی قوم کے لئے اس کے لئے دعائیں بھی کریں اور کوشش بھی۔خدا تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔آپ کو ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے نجات بخشے۔ہر قسم کے خطرات سے بچائے۔یہ دن جو آپ قادیان گزارنے کے لئے آئے ہیں ان کا ہر لمحہ مبارک آئے۔روحانی فیوض سے آپ کے دامن بھر دے اور روحانی دولت سے مالا مال ہو کر آپ خیر و عافیت سے اپنے وطن اور گھروں کو لوٹیں اور جو فیض آپ نے یہاں سے پایا ہے اسے دوسروں تک بھی پہنچانے کی سعادت حاصل کریں۔خاکسار ( دستخط) مرزا طاہراحمد خلیفہ امسیح الرابع روزنامه الفضل ربوه ۳۱ /جنوری ۱۹۹۱ء)