دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 214 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 214

214 ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں کہ حاضرین جلسہ کی تعداد سے ان ممالک کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور ان میں سے ہر ملک میں ان کے سالانہ جلسوں کے شرکاء کی حاضری بھی ۷۵ سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔آخری جلسہ جس میں مجھے پاکستان میں شمولیت کی توفیق ملی اس ایک جلسہ میں خدا کے فضل سے اڑھائی لاکھ سے زائد مردوزن شریک تھے۔انگلستان کے گزشتہ جلسہ میں بھی آٹھ ہزار کے لگ بھگ اور جرمنی کے جلسہ میں دس ہزار سے زائد حاضری تھی۔اسی طرح افریقہ اور یورپ اور ایشیا کے بکثرت ایسے ممالک ہیں جن میں ہزارہا کی تعداد میں جلسہ میں شرکت کی جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے فضل 66 کے ساتھ ” با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں“ کا منظر دنیا میں ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔میری نصیحت آپ کو یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے تعداد میں اتنی برکت دی ہے اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اس دعا کو غیر معمولی طور پر شرف قبولیت بخشا ہے کہ با برگ و بارہوویں،اک سے ہزار ہوویں وہاں ہمیشہ اس دعا کے دوسرے حصہ پر بھی آپ کی نظر رہے اور ایسے نیک اعمال بجالائیں کہ آپ حضرت اقدس) کی روحانی اولاد کے طور پر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی نیک تمناؤں پر پورا اترنے والے ہوں اور آپ کے حق میں حضرت اقدس ) کا یہ منظوم کلام پوری شان سے صادق آئے۔اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں حق پر نثار ہوویں مولا کے یارہوویں بیعت لدھیانہ کے ذریعے ۱۸۸۹ء میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مقدس ہاتھوں سے مشیت الہی نے جماعت احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔اس عظیم تاریخ ساز واقعہ کی یاد میں جماعت احمد یہ عالمگیر نے ۱۹۸۹ء کو سو سالہ جشن تشکر کے سال کے طور پر منایا۔پس اگر پہلے جلسہ کی بنیاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جلسہ تشکر کے انعقاد کا انتظام کیا جائے تو اس کے لئے موزوں سال ۱۹۹۱ء بنے گا۔احباب جماعت سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ میری دلی تمنا کو برلانے میں دعاؤں کے ذریعے میری مدد کریں کہ ہم آئندہ سال جب قادیان میں یہ تاریخی جلسہ تشکر منعقد کر رہے ہوں تو میں بھی اس میں شریک ہوسکوں اور کثرت سے پاکستان کے احمدی احباب بھی اس میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کریں۔