دورۂ قادیان 1991ء — Page 212
212 کرنے والے تھے اور اس کی مزید تفسیر یہ فرمائی کہ: وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرہ :۲۷۳) اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یقین جانو وہ تمہیں خوب لوٹا یا جائے گا۔تُوَفَّ اِلَيْكُمْ میں صرف لوٹانے کا مضمون نہیں بلکہ بھر پور طور پر لوٹایا جائے گا اور تم سے کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔یہ ایک محاورہ ہے۔طرز بیان ہے۔جب کہا جائے کہ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ نہیں ہے کہ محض عدل کیا جائے گا بلکہ بالکل برعکس مضمون ہوتا ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ وَهُمْ لَا يُظْلَمُون ان سے ظلم نہیں کیا جائے گا تو مراد یہ ہوتی ہے کہ انہیں بہت زیادہ دیا جائے گا۔ظلم تو در کنار اتنا عطا ہوگا کہ احسانات ہی احسانات ہوں گے۔یہ ایک طرز بیان ہے جو مختلف زبانوں میں ہے۔عربی میں اور خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم میں اس طرز بیان کو اختیار فرمایا گیا تو لَا تُظْلَمُونَ ، وَلَا يُظْلَمُونَ کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ ظلم نہیں کرے گا جتنا دیا اتنا واپس کر دے گا۔مراد یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اتنا دے گا کہ تمہارے پیٹ بھر جائیں گے تم کانوں تک راضی ہو جاؤ گے۔یہ معنی ہے اس آیت کا۔یہ سب بیان کرنے کے بعد فرما یا لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اس وقت جو ہم خرچ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں تو یہ عام خرچ نہیں بلکہ خصوصیت سے ان فقراء کی خاطر خرچ ہے جو خدا کے رستے میں گھیرے میں آگئے اور ان میں زمین پر چل کر اپنے کمانے کے لئے گنجائش نہیں رہی۔وہ محبت کی رسیوں میں باندھے گئے اور ہمیشہ کے لئے محمد مصطفی ﷺ کے قرب میں انہوں نے ڈیرے ڈال دیئے حالانکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔کھانے کے بھی وہ محتاج ہیں۔پہننے کے بھی ، اوڑھنے کے بھی محتاج ہیں۔ان کی ساری ضرورتیں خدا پر چھوڑ دی گئی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ تمہیں فرماتا ہے کہ تم ان کی ضرورتیں پوری کرو خدا تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا اور تمہاری ضرورتیں پوری کرنے میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو بھی انہی معنوں میں اصحاب الصفہ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔وہ جس رنگ میں بھی ہوں جہاں بھی ہوں خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کو ان کی خدمت کی توفیق بخشے اور ان کا فیض خدا تعالیٰ کے فضلوں کی صورت میں ساری دنیا کی جماعت پر نازل ہوتا رہے۔