دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 211 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 211

211 یہ ہے کہ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِكُمْ اللہ تعالیٰ تمہاری بدیاں دور کریگا۔تمہاری کمزوریاں دور فرمائے گا۔پس تمام دنیا میں ہمیں تربیت کے جو مسائل درپیش ہیں خاص طور پر ترقی یافتہ یا آزاد منش ممالک میں ان کا ایک حل قرآن کریم نے یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ خدا کی راہ میں محصور اور غرباء پر خرچ کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کی کمزوریاں دور فرمائے گا اور خود تمہاری اصلاح کے سامان مہیا فرمائے گا۔پھر فرمایا وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔یاد رکھو کہ تم جہاں بھی جو کچھ بھی خدا کی راہ میں کرتے ہو تمہارے اعمال سے خدا خوب واقف ہے۔ہر چیز پر اس کی نظر ہے۔تمہارا کوئی عمل بھی ایسا نہیں جو خدا کی نظر میں نہ ہو۔پھر فرمایا: لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ اے محمد ! تجھ پر ان کی ہدایت فرض نہیں ہے۔تو نے پیغام پہنچانا ہے۔نصیحت کرنی ہے اور تو بہترین نصیحت کرنے والا ہے۔وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ ہاں اللہ ہی ہے جس کو چاہے گا ہدایت بخشے گا۔جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔پھر اس جملہ معترضہ کے بعد واپس اس مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِانْفُسِكُمُ جو کچھ تم : یا درکھو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو فَلا نُفُسِكُم وہ دراصل اپنی جانوں پر خرچ کر رہے ہو۔یہ نہ سمجھو کہ دوسروں پر کوئی احسان کر رہے ہو۔تمہارا خرچ اپنے فوائد کے لحاظ سے اور برکتوں کے لحاظ سے خود تم پر ہورہا ہے۔وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ اللهِ لیکن ہم جانتے ہیں کہ محمد مصطفی اے کے تربیت یافتہ ساتھی اپنے نفوس میں برکت کی خاطر خرچ نہیں کر رہے بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کر رہے ہیں۔پس یہ مراد نہ سمجھی جائے۔کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ تعلیم دے رہا ہے کہ اپنے نفس پر خرچ کرنے کی خاطر خرچ کرو۔فرمایا ہم جانتے ہیں کہ تمہاراعلیٰ مقصد خدا کی رضا ہے مگر جب خدا کی رضا حاصل ہو جاتی ہے تو محض دین میں نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں بھی رضامل جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ایک نتیجہ ہے کہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہوا اپنی جانوں پر خرچ کرتے ہو۔ان دونوں آیات کے ٹکڑوں کو ملا کر پڑھا جائے تو مضمون یہ بنے گا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو محض اللہ کے پیار کی خاطر اس کی محبت جیتنے کے لئے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو لیکن اس رضا کا ایک ظاہری نتیجہ بھی ضرور نکلے گا اور وہ یہ کہ تمہارے اموال میں ایسی برکت ملے گی کہ گویا تم دوسروں پر نہیں بلکہ خود اپنی جانوں پر خرچ