دورۂ قادیان 1991ء — Page 178
178 اور جوڈوبے ہوئے حصے ہیں وہ مسائل سے تعلق رکھتے ہیں جو مسائل حل ہو جائیں وہ سطح سمندر سے باہر دکھائی دے رہے ہوتے ہیں اور جوا بھی ڈوبے ہوئے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہوتے ہیں پس ہمیں ان ڈوبے ہوئے مسائل کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔قادیان کی عظمت اور عزت اور جلال اور جمال کو بحال کرنے کے لئے ساری دنیا کی جماعتوں کو بہت محنت کرنی ہے اور ہندوستان کی جماعتوں کے کھوئے ہوئے وقار اور مقام کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے ساری دنیا کی جماعتوں کو بہت محنت کرنی ہوگی۔اس سلسلہ میں جہاں تک آبادی کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قادیان کو Industrialize کرنے میں ضرور محنت کرنی ہوگی۔جب تک وہاں تجارتی اور صنعتی مراکز قائم نہ کئے جائیں اس وقت تک صحیح معنوں میں باہر سے احمدی آکر وہاں آباد نہیں ہو سکتے اور مقامی احمدیوں کا انخلاء رُک نہیں سکتا۔درویشوں نے اور بعد میں آکر بسنے والوں نے اتنی بڑی قربانی دی ہے کہ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے، دور بیٹھے اس کی باتیں سن کر آپ کو تصور نہیں ہوسکتا کہ کتنے محدود علاقے میں رہ کر انہوں نے ساری زندگیاں ایک قسم کی قید میں کاٹی ہیں اور اپنے دنیاوی مفادات کو ایک طرف پھینک دیا، قربان کر دیا اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور ان کی نگہبانی کے لئے اپنی ، اپنے بچوں، اپنی بیگمات کی زندگیاں قربان کیں۔بہت ہی بڑی عظیم الشان قربانی ہے، اس کا بھی حق ہے اس لئے ساری دنیا کی جماعتوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے بھر پور کوشش کریں۔چنانچہ یہاں سفر سے پہلے میں نے جو تحریک کی اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ساری دنیا کی جماعتوں نے بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور خدا تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ صرف قادیان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی دیگر جماعتوں کی بھی اس خاص موقع پر خدمت کی توفیق ملی اور یہ جلسہ ان کے لئے روحانی برکتیں بھی لے کر آیا اور جسمانی برکتیں بھی لیکر آیا اور بہت ہی غیر معمولی طور پر ان لوگوں نے اس کی لذت محسوس کی ہے تو یہ جسمانی طور پر جو خدمات ہیں اسمیں ساری دنیا کی جماعتوں نے حصہ لیا ہے ورنہ یہ ممکن نہیں تھا اور یہ اچھا ہوا کہ پہلے یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ آپ لوگ اپنے طور پر انفرادی طور پر وہاں جا کر کسی کو دینے کی بجائے جماعت کی معرفت کوشش کریں جو کچھ